زکوٰۃ کا تعلق قانون فطرت سے ہے
______________ یہ جو ہم روزانہ خرد و نوش کے سامان کی خریداری کرتے ہیں ، مگر اس میں سے ہم بیشتر چیزوں پر غور نہیں کرتے ، بلکہ ان کو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں ، حالانکہ ان میں غور و فکر کا بہت زیادہ سامان موجود ہوتا ہے ، مثال کے طور پر ہم بازار جاتے ہیں ، اور وہاں سے پانچ کلو کا ” تربوز “ خریدتے ہیں ، تو جب اسے کھانے سے پہلے اس کا موٹا چھلکا اتارتے اور اندر کا بیج نکال دیتے ہیں ، تو پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو کا چھلکا اور بیج نکالنا پڑتا ہے ، یعنی تقریباً بیس فیصد ، تو سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس کا افسوس ہوتا ہے؟ کیا ہم پریشان ہوتے ہیں؟ کیا ہم سوچتے ہیں کہ ہم تربوز کو چھلکے اور بیج کے ساتھ کھا لیں ؟ نہیں ، ہمارا دھیان اس کمی کی طرف بالکل بھی نہیں جاتا ، یہی حال کیلے ، سنترے ، انار ، آم ، کھجور اور اخروٹ وغیرہ چیزوں کا ہے ، اس طرح سے ہم خوشی خوشی سے چھلکا اتار کر اور گھٹلیاں نکال کر ان چیزوں کو کھاتے ہیں ، حالانکہ ہم نے اس طرح کی چیزیں چھلکے اور گھٹلیاں سمیت خریدی ہوتی ہیں ، مگر چھلک...