संदेश

मार्च, 2023 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

زکوٰۃ کا تعلق قانون فطرت سے ہے

                            ______________   یہ جو ہم روزانہ خرد و نوش کے سامان کی خریداری کرتے ہیں ، مگر اس میں سے ہم بیشتر چیزوں پر غور نہیں کرتے ، بلکہ ان کو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں ، حالانکہ ان میں غور و فکر کا بہت زیادہ سامان موجود ہوتا ہے ، مثال کے طور پر ہم بازار جاتے ہیں ، اور وہاں سے پانچ کلو کا ” تربوز “ خریدتے ہیں ، تو جب اسے کھانے سے پہلے اس کا موٹا چھلکا اتارتے اور اندر کا بیج نکال دیتے ہیں ، تو پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو کا چھلکا اور بیج نکالنا پڑتا ہے ، یعنی تقریباً بیس فیصد ، تو سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس کا افسوس ہوتا ہے؟ کیا ہم پریشان ہوتے ہیں؟ کیا ہم سوچتے ہیں کہ ہم تربوز کو چھلکے اور بیج کے ساتھ کھا لیں ؟ نہیں ، ہمارا دھیان اس کمی کی طرف بالکل بھی نہیں جاتا ، یہی حال کیلے ، سنترے ، انار ، آم ، کھجور اور اخروٹ وغیرہ چیزوں کا ہے ، اس طرح سے ہم خوشی خوشی سے چھلکا اتار کر اور گھٹلیاں نکال کر ان چیزوں کو کھاتے ہیں ، حالانکہ ہم نے اس طرح کی چیزیں چھلکے اور گھٹلیاں سمیت خریدی ہوتی ہیں ، مگر چھلک...

بزنس کے تین بڑے اصول

  دنیا میں ایک بہت بڑے تاجر گزرے ہیں *حضرت عبدالرحمان بن عوف* انہوں نے اپنا کارو بار صرف دو کلو پنیر سے شروع کیا تھا-لیکن جب اس دنیا سے رخصت ھوے تو ان کے موٹے موٹے جو اثاثے تھے- صرف سونا جو تھا ایک ارب دس کروڑ بیس لاکھ تولے سونا تھا جسے تفسیم کرنے کیلے جب کاٹا گیا تو لوہے کے آرے ٹوٹ گئے کاٹ کاٹ کر اور ایسی ہی ہزاروں جاگیریں ہزاروں بھیڑ بکریاں اور ہزاروں اونٹ اور گھوڑے اور غلام تھے- وہ ہماری طرح جمع بھی نہیں کرتے تھے-  ادھر سے مال آیا تو ادھر بانٹ دیا اور ادھر سے آیا تو ادھر بانٹ دیا-  یہ وہ مال تھا جو بانٹتے بانٹتے بچ گیا تھا- جب ان سے کارو بار کی ترقی کا راز پوچھا گیا تو انہوں فرمایا *میں تین کام کرتا ھوں*  نمبر 1 *میں مال ادھار نہیں خریدتا*  نمبر2 *میں مال ادھار نہیں بیچتا* نمبر3 *کل کی امید پہ مال نہیں روکتا کہ مہنگا ھو گا تو بیچوں گا اگر آج مجھے ایک روپے نفع مل رھا ھے اور یہ پکی امید ھو کہ کل بیچوں گا تو مجھے دس روپے نفع ملے گا تو میں آج ہی بیچوں گا کل کا انتظار نہیں کروں گا* سب سے بڑی بات اس کے باوجود دنیا میں ہی جنت کا ٹکٹ لے گںے اور وہ بھی آپﷺ کی زبان مبا...