संदेश

जुलाई, 2023 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

पसमांदा मुसलमान हकीकत या जुमला

 इस्लाम नस्ल, रंग और जाति के भेदभाव से मुक्त है, इसी कारण से, इस्लाम की पवित्र पुस्तक, पवित्र कुरान, ने अपनी शुरुआत में ही पूरी मानव जाति को केवल दो समूहों पर निर्भर बना दिया: 1 आज्ञाकारी 2 अवज्ञाकारी और बताया कि इंसानों को आपस में बांटने का कोई सैद्धांतिक और सटीक कारण हो सकता है तो यही वो है जो बिना किसी भौगोलिक सीमा, रंग भेदभाव या नस्लीय भेदभाव के सभी लोगों पर लागू किया जा सकता है. यहां कोई मानक या प्रक्रिया नहीं है. यहां हर कोई बराबर है। एक विदेशी के ऊपर एक अरब, एक गोरे के ऊपर एक काला, गरीबों के ऊपर एक अमीर, प्रजा के ऊपर राजा। समुदायों और क्षेत्रों में पैदा होना बड़प्पन और गरिमा का स्रोत नहीं है, बल्कि यह तथ्य है कि लोग कुलों से संबंधित हैं , गाँव, शहर केवल पहचान का एक साधन है। अल्लाह की नज़र में, सबसे प्रतिष्ठित वह है जो सबसे अधिक भयभीत (आज्ञाकारी) है। यह केवल एक मौखिक दावा नहीं है। यह इस्लामी क्षेत्रों में भी मौजूद है इमामत का अधिकार हर उस व्यक्ति का है जो इमामत के पद के लिए योग्य है, जो प्रार्थना के सदस्यों और शर्तों से परिचित है, जो प्रार्थना की बुराइयों से अवगत है, जो पवित्...

پسماندہ مسلمان حقیقت یا ڈھونگ

اسلام رنگ و نسل ذات پات کے امتیازات سے پاک ہے  اسی وجہ سے اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید نے اپنے آغاز ہی میں تمام تر بنی نوع انسانی کو صرف اور صرف دو گروپ میں منحصر کردیا 1 فرماں بردار 2 نا فرمان اور اشارہ کردیا کہ انسانوں کو باہم تقسیم کرنے کی کوئی اصولی و کامل مکمل وجہ ہوسکتی ہےتو وہ یہی ہے جو تمام تر افراد پر منطبق ہو سکتی ہے بغیر کسی جغرافیائی حد بندی رنگی امتیاز یا نسلی تفریق کے اس اصول کے علاوہ اسلام میں آپسی تفریق درجہ بندی بہتری ابتری اونچ نیچ کا کوئی معیار اور طریقہ کار نہیں ہے یہاں سب برابر ہیں کسی عربی کو عجمی پر کالے کو گورے پر مالدار کو نادار پر بادشاہ کو رعایا پر اک قبیلے خاندان کو دوسرے خاندان پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی الگ الگ خاندانوں اور جدا گانہ  برادریوں اور علاقوں میں پیدا ہو نا باعث شرافت و کرامت ہے بلکہ انسانوں کا قبیلوں دیہاتوں شہروں والا ہونا صرف اور صرف شناخت کا ذریعہ ہے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ کرامت والاسب سے زیادہ ڈرنے والا(فرماں بردار) ہے یہ صرف زبانی دعویٰ نہیں تمام اسلامی شعبوں میں موجود بھی ہے حق امامت ہر اس شخص کو حاصل ہےجو منصب ...

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

 मुस्लिम पर्सनल लॉ जिसमें जीवन के नियम शामिल हैं, बहुत महत्वपूर्ण हैं और उनकी जड़ें किताब (कुरआन) व सुन्नत (हदीस) में हैं, लेकिन अधिकांश फैसले ऐसे हैं जिनकी कुरान और हदीस में स्पष्ट व्याख्या है। अल्लाह तआला ने हमें अपनी किताब क़ुरआन और अपने रसूल सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम के माध्यम से जो कानून दिया है, उसकी विभिन्न शाखाएँ हैं, जिनमें से एक वह कानून है जो मानव समाज और समाज से संबंधित है। , जिस पर परिवार व्यवस्था आधारित है। यह सामाजिक संबंधों के सिद्धांतों पर आधारित है, जिसमें परिवार के विभिन्न सदस्यों के अधिकारों और जिम्मेदारियों को परिभाषित किया गया है। उर्दू में इसे "फैमिली लॉ" और अंग्रेजी में इसे "पर्सनल लॉ" कहा जाता है। "मुस्लिम पर्सनल लॉ" कोई अस्थायी और स्थायी कानून नहीं है, बल्कि इस्लाम धर्म का कानून है जो क़यामत के दिन तक कायम रहता है, इसलिए जरूरी है कि इसकी शिक्षाएं सभी स्थानों और सभी समयों के लिए समान हों और हर समय और सभी समय के लिए इसके द्वारा निर्देशित हों। .कहा गया है मुस्लिम पर्सनल लॉ की एक विशिष्ट विशेषता यह है कि इसमें मानवीय हित कानूनी आधार है...

علامہ شبیر اور تفسیر عثمانی

 آج کا خاص مضمون                          __________________        مشہور عالم دین اور مفسر قرآن علامہ شبیر احمد عثمانی (1887ء - 1949ء) بر صغیر کے چوٹی کے علماء میں سے تھے ، لیکن اللہ تعالی نے ان کو قرآن کی تفسیر لکھنے کی بدولت جو شہرت و مقبولیت عطا کی تھی ، وہ مشکل سے کسی کے نصیب میں ہوتی ہے ، کیونکہ انہوں نے  جو تفسیری حواشی لکھے ہیں ، وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہیں ، جن کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو تحریر و تصنیف کے معاملہ میں قلم کی غیر معمولی روانی ، زبان و ادب میں ربط و ضبط اور تحریر و تصنیف میں کمال کی جامعیت و فصاحت اور کلام میں بے پناہ اثر انگیزی عطا فرمائی تھی ۔    سعودی عرب کی وساطت سے شاید ہی دنیا میں کوئی تفسیر یا ترجمہ قرآن اتنی بار شائع ہوا ہو ، جتنی بار تفسیر عثمانی شائع ہوئی ہو ۔ کیونکہ انہوں نے جو تفسیری حواشی لکھے ہیں ، آج بھی ان سے علماء استفادہ کرتے ہیں ۔        دراصل ان کی اس غیر معمولی مقبولیت کے پیچھے اخلاص عمل ، اشاعت قرآن...

یکساں سول کوڈ اور ہمارا رویہ

             مسلم پرسنل لا جن شعبہائے زندگی کے قوانین کو شامل ہے وہ نہایت اہم ہیں اور ان کی جڑیں کتاب وسنت میں پیوست ہیں، بلکہ زیادہ تر احکام وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح تشریحات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو قانون ہمیں عطا فرمایا ہے، اس کے مختلف شعبےہیں، ان میں سے ایک شعبہ اس قانون کا ہے جو انسانی سماج اور معاشرہ سے متعلق ہے، جس پر خاندانی نظام کی بنیاد و اساس ہے، جو سماجی تعلقات کے اصول بتاتا ہے، جس میں خاندان کے مختلف افراد کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کو متعین کیا گیا ہے، ان ہی قانون کو عرب علما ”قوانین احوال شخصیہ“ کہتے ہیں۔ اردو میں ”عائلی قوانین“ اور انگریزی میں ”پرسنل لا“ (Family_ law) کہا جاتا ہے۔ ”مسلم پرسنل لا“ کوئی عارضی اور وقتی قانون نہیں بلکہ قیامت تک باقی رہنے والے  مذہب  اسلام کا قانون ہے، لہذا لازمی طور پر اس کی تعلیمات ہر جگہ اور ہر زمانے کے لئے عام ہیں اور ہر وقت  اور ہر زمانےکے لئے اس میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مسلم پرسنل لا کا ایک امتیاز یہ بھی ہ...