بزنس کے تین بڑے اصول

 

دنیا میں ایک بہت بڑے تاجر گزرے ہیں

*حضرت عبدالرحمان بن عوف*

انہوں نے اپنا کارو بار صرف دو کلو پنیر سے شروع کیا تھا-لیکن جب اس دنیا سے رخصت ھوے تو ان کے موٹے موٹے جو اثاثے تھے-

صرف سونا جو تھا ایک ارب دس کروڑ بیس لاکھ تولے سونا تھا جسے تفسیم کرنے کیلے جب کاٹا گیا تو لوہے کے آرے ٹوٹ گئے کاٹ کاٹ کر

اور ایسی ہی ہزاروں جاگیریں ہزاروں بھیڑ بکریاں اور ہزاروں اونٹ اور گھوڑے اور غلام تھے-

وہ ہماری طرح جمع بھی نہیں کرتے تھے- 

ادھر سے مال آیا تو ادھر بانٹ دیا اور ادھر سے آیا تو ادھر بانٹ دیا- 

یہ وہ مال تھا جو بانٹتے بانٹتے بچ گیا تھا-

جب ان سے کارو بار کی ترقی کا راز پوچھا گیا تو انہوں فرمایا

*میں تین کام کرتا ھوں* 

نمبر 1

*میں مال ادھار نہیں خریدتا* 

نمبر2

*میں مال ادھار نہیں بیچتا*

نمبر3

*کل کی امید پہ مال نہیں روکتا کہ مہنگا ھو گا تو بیچوں گا اگر آج مجھے ایک روپے نفع مل رھا ھے اور یہ پکی امید ھو کہ کل بیچوں گا تو مجھے دس روپے نفع ملے گا تو میں آج ہی بیچوں گا کل کا انتظار نہیں کروں گا*

سب سے بڑی بات اس کے باوجود دنیا میں ہی جنت کا ٹکٹ لے گںے اور وہ بھی آپﷺ کی زبان مبارک سے اور قیامت تک کے تاجروں کو ایک راستہ دے گئے کہ تجارت میں مال کے ساتھ ساتھ جنت کیسے حاصل کرنی ھے...

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...