संदेश

जनवरी, 2023 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

لڑکیوں کی پرورش دخول جنت کی ضمانت

                    __________________        زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کی پیدائش کو اس قدر عار سمجھا جاتا تھا کہ بعض لوگ بلا خوف و خطر اپنی لڑکیوں کو خود اپنے ہی ہاتھوں زندہ دفن کر دیتے تھے ، چنانچہ اس سلسلہ میں علامہ قرطبی نے ایک قول اس طرح لکھا ہے    قال قتادة كانت الجاهلية يقتل احدهم انبته و يغذو كلبه ۔    (تفسير القرطبي : ج 19 ۔ ص 202)  حضرت قتادہ نے کہا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی آدمی اپنی بیٹی کو مار ڈالتا تھا ، اور اپنے کتے کی پرورش کرتا تھا ۔    لیکن اسلام نے آتے ہی دعوت توحید کے ساتھ ساتھ اس مجرمانہ فعل پر سخت نکیر کی تھی ، جیساکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔ وَلَا تَقْتُلُوٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُـمْ وَاِيَّاكُمْ ۚ اِنَّ قَتْلَـهُـمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيْـرًا ۔         ( بنی اسرائیل : 31 ) اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں ، اور تمہیں بھی ، بیشک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے ۔   ...

!!! قرض سے اتنی پناہ کیوں!!

*سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا کرتے تو یہ بھی کہتے     ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ)   ” اے اللہ ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔“ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ قرض سے اتنی پناہ مانگتے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ۔ اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔* *📗صحیح بخاری حدیث نمبر 2397*

جب اک دن بھکاری نے بادشاہ کو بھیک دی

           ایک بھکاری ایک دن بھیک مانگنے نکلا ، ایک گھر سے اسے کچھ اناج ملا ، وہ آگے بڑھا اور جب وہ بادشاہ کے محل کے راستے پر آیا تو اس نے دیکھا کہ شہر کا بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر اس طرف آ رہا ہے۔ وہ سواری دیکھنے کے لیے کھڑا ہو گیا، لیکن یہ کیا؟ بادشاہ کی سواری اس کے پاس آ کر رک گئی۔ بادشاہ گھوڑے سے اترا اور بھکاری کے سامنے ہاتھ پھیلاكر بولا : مجھے کچھ بھیک دو ملک پر بحران آنے والا ہے اور نجومیوں نے بتایا ہے کہ آج راہ میں جو پہلا بھکاری ملے، اس سے بھیک مانگیں تو بحران ٹل جائے گا۔ اس لئے منع مت کرنا ۔ بھکاری ہکا بکا رہ گیا ، راجہ ملک کے بحران کو ٹالنے کے لئے اس سے بھیک مانگ رہا ہے۔ بھکاری نے جھولی میں ہاتھ ڈالا، تو اس کی مٹھی اناج سے بھر گئی۔ اس نے سوچا اتنا نہیں دوں گا۔ اس نے مٹھی تھوڑی ڈھیلی کی اور اناج کے کچھ دانے بھرے۔ لیکن پھر سوچا کہ اتنا بھی دوں گا تو میرا کیا ہوگا؟ اس نے مٹھی اور کم کی اور بہت ہی کم اناج بادشاہ کو دے دیا۔ سارا دن بھیک مانگ کر جب بھکاری گھر پہنچا تو بیوی سے بولا - آج تو عجب ہو گیا۔ مجھے بھیک دینی پڑ گئی۔ پر نہ دیتا تو کیا کرتا آ...

پانچ احادیث اور امام ابو حنیفہ کی وصیت

 امام ابو حنیفہ نے اپنے بیٹے حماد سے فرمایا بیٹا ان پانچ احادیث کو اپنی زندگی کا محور بنالینا جن کو میں نے پانچ لاکھ احادیث سے نکالا ہے. 1 انما الاعمال بالنیات. اعمال کے ثواب کا دار و مدار نیتوں پر موقوف ہے 2 المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ. مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. 3 من حسن اسلام المرء ترک مالا یعنیہ. آدمی کا بہترین اسلام یہ ہےکہ وہ لا یعنی  (بے جا) بات کو چھوڑ دے  4 لا یومن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ. تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا تا وقتیکہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے 5 الحلال بین و الحرام بین.حلال و حرام بالکل واضح ہے

مسئلہ تقلید

ابتدائیہ: 1: شریعت کے دو اجزاء ہیں؛ (1) عقائد (2) مسائل عقائد میں بنیادی عقیدہ ”توحید“ ہے جبکہ مسائل میں بنیادی مسئلہ ”تقلید“ ہے۔ 2: سورۃ الفاتحہ ام الکتاب یعنی قرآن مجید کا خلاصہ ہے۔ اس میں بنیادی دو مسئلے ہیں، آدھی میں توحید اور آدھی میں تقلید۔ مسئلہ تقلید کو سمجھنے کیلئے چارچیزوں کاسمجھنا ضروری ہے: نمبر1: تعریف تقلید نمبر2:دلائل تقلید نمبر3:تقلیدپر ہونے والے شبہات کے جوابات نمبر4:ترک تقلید کے نقصانات فائدہ: تقلید کی اہمیت اہمیت نمبر1: تمام اختلافی مسائل کی بنیاد تقلید اور ترک تقلید ہے۔ اگریہ حل ہوجائیں تو تمام مسائل حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اہمیت نمبر2: اگرتقلید(بڑوں پر اعتماد)والا مزاج بن جائے تو امت میں اتحاد ہوسکتاہے۔ اہمیت نمبر3: اس دور میں منکرین تقلید نے تقلید کو عقیدہ کی حیثیت دی ہے، مقلدین پر کفر وشرک کے فتوے لگائے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس مسئلہ میں تیاری عقیدے کی حیثیت سے کرنی چاہیے۔ واقعہ شیخوپورہ : ایک بچہ جس نے اپنی ممانی غیر مقلدن سے مناظرہ کیا کہ تقلید ایمان ہے یا شرک؟ اگر ایمان ہے تو تمہارا نظریہ ختم ،اگر شرک ہے تو میرے ماموں سے نکاح ختم ،کیونکہ وہ مقلد ہے۔ ان تین اہمیتوں کی و...

کھانا کس نے بھیجا تھا! اک دل گداز واقعہ

             امام قرطبی ؒ فرماتے ہے کہ قبیلہ اشعریین کے لوگ جب ہجرت کرکہ مدینہ منورہ پہنچے۔ تو انکا تمام سامان جو کھانے پینے کا تھا ختم ہوچکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ ہمارے کھانے پینے کا کوئی انتظام کیا جائے۔ وہ آدمی جب رسولﷺ کے گھر کے دروازے پہ پہنچا تو رسول اللہ کی آواز آرہی تھی جو قرآن پاک کی اس آیت: وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا کی تلاوت کررہے تھے۔ یہ آیت سنتے ہی اسکے دل میں خیال آیا کہ جب اللہ تعالی نے ہر ایک کے رزق کا ذمہ لیا ہے تو پھر ہم تو انسان ہیں جانوروں سے گئے گزرے نہیں۔ وہ ضرور ہمارے لئے رزق کا بندوبست کرے گا۔ وہ وہیں سے واپس آگیا اور رسول اللہﷺ کو کچھ نہیں بتایا۔  ساتھیوں کے پاس پہنچا تو سب کو بلند آواز سے کہا: ساتھیوں خوش ہوجاؤ اللہ کی مدد آنے والی ہے وہ سمجھے کہ یہ بندہ چونکہ رسول اللہ کے پاس عرض کرنے گیا تھا اسلئے رسول اللہ نے کھانا بھیجنے کا وعدہ کرلیا ہوگا۔ لہذا وہ خوشی خوشی اپنے کاموں میں لگ گئے۔ اور مطمین ہوگئے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ دو بندے ایک بڑا...

مہمان نوازی کی اہمیت

 جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ مہمان کا اکرام کرے (مہمان کی عمدہ خاطر داری کرے)جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے(رشتہ داروں قربتداروں کے حقوق ادا کرے)    جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے. کوئی مہمان آئے تو اس کا حق یہ ھیکہ تمام مشغولیات چھوڑ کر اسے اہمیت دے خندہ پیشانی سے ملے اور حسب استطاعت عمدہ سے عمدہ کھانا پینا پیش کرے اور جانے تک اسکی ہر ضرورت کا خیال رکھے اور جاتے وقت دعاؤں کے ساتھ رخصت کرے 

बुराई को ताकत भर रोकना जरूरी

 बनी इस्राइल के काफिरों पर लानत की गई हजरत दावूद व ईसा इब्ने मरियम अलयहिमास्सलाम की जबानी इस वजह से कि वह ना फरमानी में हद से तजावुज कर चुके थे & वह बुरा काम करने वालों को बुराई से नहीं रोकते थे. हमने नजात दी उन लोगों को जो लोगों को बुरा काम करने से रोकते थे.. तुम में से जो किसी को बुराई करता देखे तो उसको हाथ से रोके अगर हाथ से रोकने की ताकत न हो तो जबान से रोके अगर इसकी भी ताकत न हो तो दिल से बुरा समझे ओर यह ईमान का आखिरी दर्जा हे...... 

برائی کو طاقت بھر روکنا ضروری

 بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی حضرت داؤد اور عیسی ابن مریم علیہما السلام کی زبانی اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی میں حد سے تجاوز کردیا تھا (نیز) وہ برا کام کرنے والوں کو برائی سے نہیں روکتے تھے. ہم نے نجات دی ان لوگوں کو جو برائی سے روکتے تھے. تم میں سے جو کوئی کسی کو برا کام کرتا دیکھے تو اسکو چاہیے کہ برائی کرنے والے کو ہاتھ سے روکے اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے منع کرے اسکی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے 

दुनिया की खुशहाली कामयाबी की अलामत नहीं

 पस जब उन्होंने भुलादिया उस नससीहत जो उन्हें की गई थी और परेशानी व मशक्कत को जो उन पर डाली गई तो हमने उनपर हर किसम की नेमतों के दरवाजे खोल दिए यहां तक की जब वह उन नेमतों पर इतराने लगे जो ढील के तोर पर दी गईं फिर हमने अचानक पकड़ लिया अजाब मे गिरफ्तार कर दिया. जब आप देखो की अल्लाह  नाफ़रमानी के बावजूद किसी को उसकी ख़ाहिशात के मुताबिक दुनिया दे रहा हे तो यह इसतिदराज(ढील) हे ताकी वह दोलत के नशे मे ना फरमानी पर ना फरमानी किये जाए और यह ढील व मोहलत उस के अजाब मे इजाफे का सबब हो.. 

برائی کا راستہ دکھلانا بھی برائی ہے

 برائی اور نا فرمانیوں کے کاموں میں ایک درسرے کی مدد نہ کرو. جو شخص کسی کو برائی کا راستہ دکھلائے( زبان سے کہے  کرکے دکھلائے یا کرنے میں مدد کرے) تو اس کو بھی برائی کا گناہ ملتا ہے اور ہاں گناہ کرنے والے کے گناہ میں  سے بھی کچھ کم نہیں ہوتا. نیز جب تک بھی وہ برائی ہوتی رہتی ہے رہنمائی کرنے والےکے نامہ اعمال میں گناہ لکھا جاتا رہتا ہے 

دنیاوی خوشحالی کامیابی کی علامت نہیں

 پس جب انہوں نے بھلا دیا اس نصیحت کو جو جو ان کو کی گئی اور شدت و بیماری کو جن کے ذریعے ان کو ڈرایا گیا تھا تو ہم نے ان پر بہ طور ڈھیل ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں پر اترانے لگے(جو ان کو بہ طور ڈھیل و آزمائش دی گئی تھیں ) جب آپ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نا فرمانیوں کےباوجود کسی کو اسکی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج(ڈھیل) ہے کامیابی نہیں ہے تاکہ یہ مزید مست ہو کر نا فرمانیوں پر نافرمانی کرتا چلا جائے اور اللہ اس کو شدت والے عذاب میں مبتلا کرے اور یہ مہلت اور ڈھیل عذاب کی زیادتی کا سبب بنے 

बुराई का रास्ता दिखाना भी बुराई!!

 बुराई ओर ना फरमानी के कामों में एक दूसरे की मदद न करो.जोशख्स किसी को बुराई का रास्ता दिखलाए ( चाहे जबान से कहे या करके दिखलाए या करने मे मदद करे) उस को भी बुराई करने वाले के बराबर गुनाह मिलेगा. और हां गुनाह करने वाले के गुनाह मे से भी कुछ कम न होगा........ 

नेकी का रास्ता दिखाना भी नेकी हे

 आप हिकमत ओर उम्दा बात चीत से ( लोगों को) अपने रब की जानिब बुलाओ. नेक कामों मे एक दूसरे की मदद करो. जो शख्स किसी को नेक काम का रास्ता दिखलात हे तो उसको भी नेक काम करने वाले के बराबर सवाब मिलता हे. ओर हां नेकी करने वाले के सवाब में से भी कुछ कम नहीं होता बल्कि अल्लाह दोनों को अपने फजल से अलग अलग सवाब अता करता हे..... 

نیک کام کا راستہ دکھلانا بھی نیکی

 آپ حکمت اور عمدہ  گفتگو کے ذریعے (لوگوں کو ) اپنے رب کی طرف پکارو. نیک کاموں میں اک دوسرے کا تعاون (مدد) کرو. جو شخص کسی کی نیک کا م کی جانب راہنمائی کرتاہے تو اس کو بھی نیکی کرنے والے کے مانند ثواب ملتا ہے. نیز نیکی کرنے والے کے ثواب میں سے کچھ کمی بھی نہیں ہو تی بلکہ اللہ اپنے فضل سے دونوں (راہ دکھلانے والے اور عمل کرنیوالے) کو الگ الگ اجر عطا کرتا ہے 

एक सच्ची हिकायत

 सुल्तान हारुन रशीद ने बेहलूल को हुक्म दिया कि बाजार का चक्कर लगाए ओर कसाईयों के तराजू & वजन के पथ्थर चेक करें & दोषियों को गिरफ्तार कर के लाऐं. बेहलूल वेहले कस्साब के पास गए वजन चेक किया तो कम पाया बेहलूल ने उससे अहवाल दरयाफत किये उसने कहा बहुत बूरे हालात हें दिल करता हे यह छुरा घुसा कर अपनी जान लेलूं बेहलूल दूसरे कसाई के यहां गये उसका भी वजन कम था और हालात भी खराब चल रहे थे. आप तीसरे कस्साब के पास गए वजन चेक किया उसका वजन एक दम सहीह निकला बेहलूल ने कारोबार व माश के हालात मालूम किये उसने कहा अल्लाह का शुक्र हे औलाद भी नेक हे खुशी-खुशी जिन्दगी गुजर रही हे.....बेहलूल ने दरबार आकर सारा किस्सा सुनाया सुल्तान ने कहा आप उनको पकड़ कियूं नहीं लाऐ बेहलूल ने जवाब दिया मे उनको कियूं लाऊं अल्लाह ने खुद उन को सजा दे रखी हे उनकी माशी जिन्दगी तन्ग हे....... एक खामूश पेगाम 

اک سچی اور انوکھی حکایت

 ھارون رشید نے بہلول کو ھدایت کی کہ بازار جائیں اور قصائیوں کے ترازو اور جن پتھروں سے وہ گوشت تولتے ھیں وہ چیک کریں اور جن کےکم ہوں گرفتار کرکے دربار میں حاضر کریں بہلول بازار جاتے ہیں پہلے قصائی کا تول والا پتھر چیک کرتے ہیں تو وہ کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے چل رھے ھیں..؟ قصائی کہتا ہے کہ بہت برے دن ھیں دل کرتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری بدن میں گھسا دوں اور ابدی ننید سوجاوں... بہلول آگے دوسرے قصائی کے تول والے پتھر کو چیک کرتے ہیں وہ بھی کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں گھر کے وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ نے پیدا ھی نہ کیا ھوتا بہت ذلالت کی زندگی گزار رھا ھوں بہلول اگے بڑھے..  تیسرے قصائی کے پاس پہنچے تول والا پتھر چیک کیا تو بلکل درست پایا قصائی سے پوچھا کہ زندگی کیسے گزر رھی ھے.... ؟ قصائی نے کہا کہ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ھے بہت خوش ھوں اللہ تعالٰی نے بڑا کرم کیا ھے اولاد نیک ھے زندگی بہت اچھی گزر رھی ھے بہلول واپس آتے ہیں سلطان ھارون رشید پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ھے... ؟ بہلول کہتے ہیں کہ کئی قصائیوں کے تول والے پتھر کم نکلے ھیں. سلطان...

जुल्म आखिरत की बर्बादी हे

 जालिमों को अल्लाह के अजाब से कोई न बचा सके गा आर न ही उनका कोई तरफदार होगा. जुल्म से बचो क्युंकी जुल्म कयामत के अन्धेरो मे से 1 अन्धेरा होगा.. कयामत मे हर हक वाले ( मजलूम) को उसका हक दिलवाया जाये गा यहां तक की बगेर सींग वाली(मुन्डी) बकरी का सींग वाली बकरी से बदला दिलवाया जाये गा. यह अलामत हे इस बात की के अल्लाह के यहां जालिमों की खेर नहीं वहां मजलूम को बदले की ताकत भी दी जाये गी और हक भी भले ही दुनिया मे अपनी ताकत के नशे मे दन्दनाते फिर लो मगर यह चन्द रोजा हे. जुल्म सिर्फ यह नहीं की किसी को मारा या सताया जाये बल्कि हर साहिबे इख्तियार व मंसब का अपने इख्तियार ओर उहदे का गलत इस्तेमाल मातहतों पड़ोसियों रिश्तेदारों के हुकूक मे कोताही & हेरा फेरी भी जुल्म हे...... 

ظلم کا انجام آخرت کی بربادی ہے

 ظالموں کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا اور نہ اللہ کے یہاں ان کا کوئی طرفدار ہو گا...ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کی دن تاریکیوں میں سے ایک تاریکی ہوگا.. قیامت میں ہر صاحب حق(مظلوم) کو اس کاحق دلوایا جائے گا یہاں تک کہ بے سینگ والی (منڈی) بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے دلوایا جائے گا. یہ علامت ہے اس بات کی کہ خدا تعالیٰ کےیہاں کسی بھی ظالم کی خیر نہیں دنیا میں بھلے ہی چند دن اپنی طاقت کے نشے میں دندناتے پھر لو روز قیامت مظلوموں کو بدلے کی طاقت بھی دی جائے گی اور انتقام کا حق بھی اور ظلم صرف یہی نہیں کہ کسی کو مارا یا ستایا جائے بلکہ ہر وہ شخص بھی ظالم ہے جو اپنے اختیارات اور مناصب کا بے جا استعمال روا رکھتا ہے اپنے ماتحتوں رشتہ داروں پڑوسیوں اور دوسرے حق داروں کے حقوق میں کوتاہی یا ہیرا فیری کرتا ہے