संदेश

जून, 2023 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

عید قرباں اور عقلی شواہد

اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چھوٹا اپنے بڑے کیلئے قربان ہوتا ہے کبھی اپنی خواہشات ترک کرتاہے کبھی اپنی مرضیات کو الوداع کہتاہے شاگرد اپنے استاذ کیلئے مرید اپنے پیر ومرشد کیلئے بیٹا باپ کیلئے اپنی ہوائے طبعیہ کو خیرآباد کہدیتے ہیں ملازم اپنے افسر اور بوس کیلئے اپنی خوشی اور اپنے تہواروں کی رخصت قربان کرتاہے سرکاری ملازمین عوام کیلئے ہولی دیوالی عید وغیرہ کی تعطیلات خوشی خوشی قربان کرتے ہیں یہ نظام کائنات صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ حیوانوں بھی میں جاری ہے چونٹیاں کیڑے مکوڑے مکھیوں کیلئے مکھیاں اور پروانے چھپکلیوں اور شمعوں کیلئے بندر خرگوش چیتے کیلئے ہرن شیر کیلئےچھوٹی مچھلیاں چوہے شکروں بازوں اور بڑی مچھلیوں کیلئے قربان ہوتے ہیں ہو بہو انسان اپنے رب کے حضور اپنے محبوب جانور کی صورت میں اپنے آپ کو قربان کرتاہے   ( حق تو یہی تھا کہ خدا کے حضور انسان ہی کی قربانی دی جاتی مگر انسان کے ذمہ اپنے تحت بہتوں کے حقوق لازم ہیں ان حقوق واجبہ میں کوتاہی ہوتی ماتحت افراد بے یار و مددگار پھرتے سارا نظام معاشرت اتھل پتھل ہوجاتا نیز انسان اشرف المخلوقات ہے اسے ذبح کرنے میں اک قسم کی توہین ...

ईदूल अजहा और कुर्बानी

  बकरा ईद, जिसे ईद-उल-अजहा भी कहा जाता है, इस्लामी धर्म में महत्वपूर्ण एक त्योहार है जो पूरी दुनिया में मनाया जाता है। यह ईद मुस्लिम समुदाय में धार्मिक और सामाजिक महत्व का प्रतीक है। बकरा ईद को हर साल इस्लामी लुनर कैलेंडर के द्वारा धार्मिक आयोजन के रूप में मनाया जाता है। बकरा ईद में, मुस्लिम समुदाय के लोग एक हलाल बकरा या दूसरे जानवर की कुर्बानी करते हैं। यह बलिदान करने का कार्य उनकी ईमानदारी, सेवा और खुदा के प्रति उनके वफादारी का प्रतीक है। कुर्बानी के जानवर का चयन विशेष रूप से धार्मिक नियमों और उनकी उपस्थिति के आधार पर किया जाता है। कुर्बानी के बाद, जानवर का गोश्त तैयार किया जाता है और इसे गरीबों, दरिद्रों और असमर्थ लोगों में बांटा जाता है, ताकि सभी लोग इस धार्मिक आयोजन की खुशियों का हिस्सा बन सकें। बकरा ईद एक सामाजिक महत्वपूर्णता रखने वाला त्योहार है, 

یکساں سول کوڈ اور منفی اثرات

جب ہندوستان آزاد ہوا، اور ملک کا    دستور بنا تو اس میں  ’’مسلم پرسنل لا" کی بھی قانونی حیثیت تسلیم کی گئی اور طویل ترین ماضی کی روایات اور عوامی رجحان جس کی بنیاد مذہب پر ہے، کا احترام کیا گیا اور قانون سازوں نے صاف طورپر دستور ساز اسمبلی میں اعلان کیا کہ ’’مسلم پرسنل لا‘‘ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ اب اس ملک میں مسلم پرسنل لا کو ختم کرکے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کی بات کی جاتی ہے۔ ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ یا ’’یکساں شہری قانون‘‘ سے مراد وہ قوانین ہوا کرتے ہیں جو کسی بھی مخصوص خطہ زمین پر آباد لوگوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لیے بنائے گئے ہوں، ان قوانین کے تحت ہر فرد کی شخصی اور خاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اور نکاح و طلاق، فسخ و ہبہ، وصیت و وراثت اور تبنیت جیسے امور انھیں قوانین کے ذریعہ حل کیے جاتے ہیں، ان قوانین کے نفاذ میں کسی شخص کے مذہب ، اس کی تہذیب اور رسم و رواج کا خیال نہیں کیا جاتا، ان چیزوں سے بالکل الگ ہوکر ہر مذہب کے ماننے والے کے لیے ایک قانون ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ ہے۔ اور اسی قانون کے تحت نکاح اور طلاق جیسے امور بھی انجام پاتے ہیں، یعنی سول کوڈ ک...

برزخی زندگی اور حقیقت

برزخی زندگی دنیوی زندگی کا تتمہ اور اخروی زندگی کا مقدمہ ہے یہ دنیا اور آخرت کی زندگی کے درمیان اک حجاب آڑ اور فاصلہ ہے عدلیہ اور قانونی زبان میں کسٹڈی کے زمانے کے مانند ہے ہاں ابتدائی انٹرویو و تفتیش سے مقدمہ کا رخ متعین ہوجاتا ہے جو حیات برزخی کے آغاز میں منکر نکیر کے بنیادی سوالات سے ہوگا اگریہ مرحلہ قابل اطمینان رہا تو اسکی  قیام گاہ میں جنت کا دریچہ کھول دیا جائے گا اور کہا جائے گا  نم کنومۃ العروس سوجا جیسے نئ نویلی دلہن سوتی ہے اور اگر جوابات تشفی بخش نہ ہوئے تو دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جائے گی بندہ مومن و کافرکے سکون وبے چینی کا تعلق عالم برزخ میں روح سے ہے جسم تو گل سڑ کر یا جل کر فنا ہوجائے گا اس کیفیت کی مثال ایسے ہی ہےجیسے خوابیدہ شخص خواب دیکھتا ہے اور بسا اوقات خوش کن مناظر دیکھتا ہے تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ محسوس ہوتی ہے اور ڈراؤنے مناظر دیکھتا ہے تو کبھی اسکی چیخ نکل جاتی ہے اور وہ جب بیدار ہوتاہے تو ساری کیفیات ختم ہوجاتی ہیں بعینہ عالم برزخ میں جسم اور روح کاتعلق منقطع ہوجاتا ہےاور بندہ عاصی و مطیع پریشان کن حالات یا راحت رساں اسباب مثل خواب محسوس کرتے ہیں ...

حور ان جنت شاہی زندگی کا حصہ ہیں

خدا معلوم آجکے روشن خیال جدت پسند لوگوں کو جنتی  نعمت حوروں کے ملنے سے اس قدر کیوں شرم آتی ہے یا تو یہ لوگ عورت کے نعمت ہو نے کے ہی منکر ہیں یا پھر نفس جنت ہی سے اعتراض ہے تو بادی النظر میں ان سے زیادہ بے عقل کوئی نہیں ہے عورت کا وجود مسعود دنیا میں بھی با عث زینت سکون کا ذریعہ شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ والی زندگی کا راز ہے ومن آیتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا. زین لناس حب الشہوات من النساء الخ اک خوشگوار معاشرے کی ساری تگ ودو دوڑ دھوپ معاشی حربے روزگار و کارو بار کی غیر معمولی مشقت اور اسکے نتیجے میں ہونیوالا بے انتہا اضمحلال اسی لئے قابل برداشت ہے کہ  اپنے ما تحت صنف نازک کے نان نفقے کی ذمہ داری پوری کرسکے پھر آرام دہ پر کشش بیوی کے پہلو میں سکون حاصل کرے اور دل ربا مسکان کے صدقے ساری پریشانیاں بھول جائے   وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ . اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں اس نعمت عظمیٰ کی قدرو منزلت ان بے چاروں سے پوچھئے جو اس سے محروم ہو گئے کہ دنیاکی ساری نیرگیاں انہیں پھیکی لگتی ہیں افراد سے بھرا گھرانہ بھی ان کو خالی خالی نظر آتا ہے بلا شبہ اس...

जन्नत की हकीकत...

जन्नत (Jannat) इस्लामी धर्म के अनुसार स्वर्ग का नाम है। यह ईसाई और यहूदी धर्मों के परम आनंदस्वरूप स्थान के समान होता है। इस्लाम में मान्यता है कि जन्नत परम खुशी, आनंद और शांति का स्थान है जहां सदैव के लिए सब कुछ सुखद माना जाता है। इस्लामी परंपरा में माना जाता है कि जन्नत एक आकाशीय स्थान है जिसे अल्लाह अपने भक्तों को प्रदान करता है। इसमें खुदा की मुहिंदरा (प्रकाशमय रूप) और उसके अद्भुत आदेशों के अनुसार वातावरण शामिल होता है। जन्नत की खूबसूरती, अद्वितीयता और आनंद सदैव अपूर्ण होते हैं। इस्लामी धर्म में माना जाता है कि जन्नत में स्थायी आनंद, नहाने के फव्वारे, अद्भुत भोजन, सोने और चांदी के सजावटी घर, विश्राम के बिस्तर, और सर्वश्रेष्ठ सौंदर्यिकता के साथ सुंदर बगीचे शामिल होते हैं। जन्नत में सभी वानगमय अप्सराएं, लड़कियां और हूरों का वास्तविक स्वरूप भी होता है  ओर बन्दा जो चाहे गा जन्नत मे सब मिले गा. वह भी ऐसा अनोखा जिसे न किसी आंख ने देखा न किसी कान ने सुना और न किसी के दिल में उसका ख्याल आया होगा..... 

इस्लाम में हूर का तसव्वुर

हूर एक शब्द है जो इस्लामी धर्म में प्रयुक्त होता है और जन्नत (आखिरत में स्वर्ग) में मुसलमानों को प्रदान की जाने वाली सुंदर, पवित्र और आकर्षक महिलाओं को वर्णित करता है। हूरों का तसव्वुर कई मुस्लिम धर्मग्रंथों, विशेषतः कुरान में मिलता है। इस्लाम में मान्यता है कि जन्नत में सुंदरता, आकर्षण और सुख-समृद्धि के एक अद्वितीय अनुभव के लिए, मुसलमानों को हूरों की विशेष वर्णनात्मक समृद्धि मिलेगी। इन्हें शरीरिक और आत्मिक रूप से अत्यधिक आकर्षक वर्णन किया जाता है, जो स्वर्गीय आनंद और सुख को बढ़ाते हैं। कुरान में हूरों का वर्णन अनेक स्थानों पर मिलता है। उदाहरण के लिए, (Surah Al waqia me कहा गया है: "हर विशेष शक्ल और अत्युत्तम गुणधर्मवाली जिसकी आंखे बड़ी बड़ी ओर चमकती हुई होंगी।" जन्नतियों को मर्तबा के हिसाब से 1 या उस से अधिक दी जायेगी....