برزخی زندگی اور حقیقت


برزخی زندگی دنیوی زندگی کا تتمہ اور اخروی زندگی کا مقدمہ ہے یہ دنیا اور آخرت کی زندگی کے درمیان اک حجاب آڑ اور فاصلہ ہے عدلیہ اور قانونی زبان میں کسٹڈی کے زمانے کے مانند ہے ہاں ابتدائی انٹرویو و تفتیش سے مقدمہ کا رخ متعین ہوجاتا ہے جو حیات برزخی کے آغاز میں منکر نکیر کے بنیادی سوالات سے ہوگا اگریہ مرحلہ قابل اطمینان رہا تو اسکی  قیام گاہ میں جنت کا دریچہ کھول دیا جائے گا اور کہا جائے گا 

نم کنومۃ العروس سوجا جیسے نئ نویلی دلہن سوتی ہے

اور اگر جوابات تشفی بخش نہ ہوئے تو دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جائے گی بندہ مومن و کافرکے سکون وبے چینی کا تعلق عالم برزخ میں روح سے ہے جسم تو گل سڑ کر یا جل کر فنا ہوجائے گا اس کیفیت کی مثال ایسے ہی ہےجیسے خوابیدہ شخص خواب دیکھتا ہے اور بسا اوقات خوش کن مناظر دیکھتا ہے تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ محسوس ہوتی ہے اور ڈراؤنے مناظر دیکھتا ہے تو کبھی اسکی چیخ نکل جاتی ہے اور وہ جب بیدار ہوتاہے تو ساری کیفیات ختم ہوجاتی ہیں بعینہ عالم برزخ میں جسم اور روح کاتعلق منقطع ہوجاتا ہےاور بندہ عاصی و مطیع پریشان کن حالات یا راحت رساں اسباب مثل خواب محسوس کرتے ہیں اور برزخی زندگی میں انسان کے اعمال کا متشکل ہونا بھی مشہور ہے کہ جب اک ظالم و جابر شخص مرتاہے تو اسکا ظلم ظالم کی شکل اختیار کر اس پر مسلط ہوجاتا ہے اور جب انتہائی بخیل اپنے خقوق واجبہ میں کوتاہی کرنے والا مرتا ہے تو اسکا مال ازدہے کی شکل میں مسلط ہوتا ہے اوربندے اس ابتدائی سزا کو محسوس بھی کرتے لیکن یہ کامل سزانہیں ہے اور نہ ہی عالم برزخ مکمل سزا و جزا دینے کی جگہ ہے وہ توانتظار کا زمانہ ہے جو بندوں پرمثل بہ حالت نیند گزرے گا 

روز قیامت جب مجرمین کو اٹھایا جائے گا تو وہ کہیں گے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا 

من بعثنا من مرقدنا

مکمل جزا وسزا تو قیامت میں فیصلے کے بعد جنت تو دوزخ میں دی جائے گی.... (حجۃ اللہ البالغۃ) 

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

जन्नत की हकीकत...