نکاح حلالہ کی حقیقت

 حلالے جیسے کوئی چیز اسلام میں نہیں ہے اس کے کرنے پر کوئی ثواب یا فضیلت قرآن وحدیث میں نہیں آئی ہے. جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام حلالہ کی نہ حمایت کرتا ہے اور نہ  ہی بڑھاوا دیتا ہے بلکہ اس کے کرنے والوں پر لعنت کرتاہے (لعن اللہ المحللین والمحللات. الحدیث )  حلالہ کرنے والےمردوں اور حلالہ کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے جو پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دےدیتا ہے تو  اب وہ اسکی بیوی نہیں رہتی ہے اب اس عورت کو یہ آزادی حاصل ہے کےوہ جہاں چاہے اور جس سے چا ہے نکاح کر لے سابق شوہر کو اس میں داخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہے نہ نکاح کرانے میں اورنہ طلاق کروانے میں پھر بھی اگر وہ طلاق کا دباؤ ڈالتا ہے یا کہتا ہے تو گنہگار ہوگا اتفاقاً کبھی اس بے چاری کو دوسری جگہ سے بھی طلاق ہو جائے عدت بھی گزر جائے اور دونوں خاندانوں میں حالات سازگار ہوجائیں اور یہ سابق شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو از سر نو نکاح ہوجائے گا اور اس نکاح کا پہلے والے نکاح سے کوئی تعلق نہ ہوگا ایسا کبھی شاذ و نادر ہی ہوتا ہے عام طور پر طلاق کے بعد میاں بیوی اور دونوں خاندان والے فطری طور ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں اور دوبارہ رشتہ جوڑنا پسند نہیں کرتے اور اسلام بھی ان کو اس پر مجبور نہیں کرتا ہے

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...