طلاق یا پروپیگنڈہ
اسلام میں میاں بیوی کا رشتہ سب سے عظیم رشتہ اور خدا تعالیٰ کی ایک نشانی ہے اسکی بقا اور دوام کیلئے اللہ نے کڑے اصول وقوانین بنائے. 1 قرآن وحدیث میں کئی مقامات پر میاں بیوی کو حسن معاملگی ایک دوسرے کی رعایت رحمدلی اور حسن معاشرت کے ساتھ گزر بسر کا حکم دیا گیا 2 اگر کبھی خدا نخواستہ میاں بیوی میں نا چاقی ہونے لگے اور شوہر کو بیوی کا رویہ نہ پسند ہو تو تو شوہر کو حکم ہے کہ اسے سمجھائے مان جائے تو اچھا ہے. ورنہ 3 بستر الگ کردے اس پر بھی نہ مانے تو 4 ہلکی پھلکی تنبیہ کرے اب بھی نہ مانے تو 5 دونوں جانب سے سلجھے ہوئے حکم (ثالث) بٹھائے اور دونوں حکم ان دونوں میں صلح کی بھر پور کوشش کریں اور غلطی کرنے والے کو تنبیہ کریں اس پربھی بات نہ بنے تو اب 6 صرف ایک طلاق رجعی (جس کے بعد رجوع کا حق ہے) دے بہت ممکن ہے عورت طلاق کے ڈر سے اپنا رویہ تبدیل کر لے اور شوہر اس سے رجوع کرلے لیکن اگر اب بھی بات نہ بنے بلکہ مزید بات بگڑتی جائے تو 7 اب مزید زندگی کو اجیرن اور جہنم بنانے کی ضرورت نہیں ہے شوہر ایک اور طلاق دیدے اور اچھے طریقے سے مہر اورمتعہ (تحفہ) دے کر آزاد کردے تاکہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکے اور بار بار گھٹ گھٹ کر مرنےسے بچ سکے.8 ان دو طلاق(بائن جس میں بغیر نکاح کے رجوع کاحق نہیں رہتا ہے)میاں بیوی چاہیں تو بغیر کسی ڈنڈ(حلالہ) کے نکاح کر لیں اوردوبارہ با ضابطہ میاں بیوی بن جائیں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں. اور نکاح نہ کرنا چاہیں تو بھی کوئی حرج نہیں . طلاق کا یہی طریقہ معروف ہے .9 لیکن اگرکسی نے تیسری طلاق بھی دیدی جس کی ضرورت بھی نہیں تھی اور یہ طلاق معروف طریقہ سے علیحدہ بھی تھی تب بھی یہ طلاق (مغلظہ) واقع ہوجائے گی چاہے الگ الگ 3 طلاقیں دی ہوں یا ایک ساتھ. تو اب یہ عورت شوہر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئی. اب اس خاتون کو چاہئے کہ عدت کے بعد اپنی آزادی سے جہاں چاہے جس سے چا ہے نکاح کرلے کون ہے جو اس کو مجبور کرسکتا ہے یا اسکی زندگی میں انٹر فیر کرے اللہ نے یہ حق کسی کو بھی نہیں دیا یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی نہیں
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें