جب اک دن بھکاری نے بادشاہ کو بھیک دی


     

     ایک بھکاری ایک دن بھیک مانگنے نکلا ، ایک گھر سے اسے کچھ اناج ملا ، وہ آگے بڑھا اور جب وہ بادشاہ کے محل کے راستے پر آیا تو اس نے دیکھا کہ شہر کا بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر اس طرف آ رہا ہے۔

وہ سواری دیکھنے کے لیے کھڑا ہو گیا، لیکن یہ کیا؟ بادشاہ کی سواری اس کے پاس آ کر رک گئی۔ بادشاہ گھوڑے سے اترا اور بھکاری کے سامنے ہاتھ پھیلاكر بولا : مجھے کچھ بھیک دو ملک پر بحران آنے والا ہے اور نجومیوں نے بتایا ہے کہ آج راہ میں جو پہلا بھکاری ملے، اس سے بھیک مانگیں تو بحران ٹل جائے گا۔ اس لئے منع مت کرنا ۔

بھکاری ہکا بکا رہ گیا ، راجہ ملک کے بحران کو ٹالنے کے لئے اس سے بھیک مانگ رہا ہے۔ بھکاری نے جھولی میں ہاتھ ڈالا، تو اس کی مٹھی اناج سے بھر گئی۔ اس نے سوچا اتنا نہیں دوں گا۔ اس نے مٹھی تھوڑی ڈھیلی کی اور اناج کے کچھ دانے بھرے۔ لیکن پھر سوچا کہ اتنا بھی دوں گا تو میرا کیا ہوگا؟ اس نے مٹھی اور کم کی اور بہت ہی کم اناج بادشاہ کو دے دیا۔

سارا دن بھیک مانگ کر جب بھکاری گھر پہنچا تو بیوی سے بولا - آج تو عجب ہو گیا۔ مجھے بھیک دینی پڑ گئی۔ پر نہ دیتا تو کیا کرتا آخر بادشاہ نے مانگا تھا۔ یہ کہکر اس نے بھیک کی جھولی بیوی کے حوالے کی جب بیوی نے جھولی کو الٹا کیا تو اس میں ایک سونے کا سکہ نکلا ۔

یہ دیکھ کر بھکاری بہت پچھتایا اور بیوی سے بولا - اخر میں نے راجہ کو تمام اناج کیوں نہ دیا؟ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو آج میری زندگی بھر کی غربت مٹ جاتی۔

اس علامتی کہانی ميں يہ اشارہ ہے کہ صدقہ دینے اور دوسروں کی امداد کرنے سے خوشحالی بڑھتی ہے اسلئے ہميں دوسروں کو ديتے وقت اپنا ہاتھ اور دل کھلا رکھنا چاہيے۔

جو اپنے دلوں اور ہاتھ کو تنگ رکھتے ہیں ان کی اپنی روزی بھی تنگ ہوتی ہے ۔ اور اللہ تعالی بھی ناراض ہوتے ہيں۔

منقول

۔

۔

۔

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...