لڑکیوں کی پرورش دخول جنت کی ضمانت


                    __________________


       زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کی پیدائش کو اس قدر عار سمجھا جاتا تھا کہ بعض لوگ بلا خوف و خطر اپنی لڑکیوں کو خود اپنے ہی ہاتھوں زندہ دفن کر دیتے تھے ، چنانچہ اس سلسلہ میں علامہ قرطبی نے ایک قول اس طرح لکھا ہے 


  قال قتادة كانت الجاهلية يقتل احدهم انبته و يغذو كلبه ۔

   (تفسير القرطبي : ج 19 ۔ ص 202)

 حضرت قتادہ نے کہا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی آدمی اپنی بیٹی کو مار ڈالتا تھا ، اور اپنے کتے کی پرورش کرتا تھا ۔


   لیکن اسلام نے آتے ہی دعوت توحید کے ساتھ ساتھ اس مجرمانہ فعل پر سخت نکیر کی تھی ، جیساکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔


وَلَا تَقْتُلُوٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُـمْ وَاِيَّاكُمْ ۚ اِنَّ قَتْلَـهُـمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيْـرًا ۔

        ( بنی اسرائیل : 31 )

اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں ، اور تمہیں بھی ، بیشک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے ۔


    اسلام نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس فعل کا انجام بہت برا ہو گا اور قیامت کے دن اپنی بچیوں کو زندہ دفن کرنے والے شخص کو قیامت کے دن سب کے سامنے کس سخت ذلت و رسوائی کا سامنا ہو گا ؟ اس کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے ۔


وَاِذَا الْمَوْءُوْدَةُ سُئِلَتْ ۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۔

             ( التکویر : 8-9)

اور جب زندہ گاڑ دی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تو کس گناہ کی پاداش میں ماری گئی تھی ؟

 

        جبکہ لڑکی یا لڑکے پیدا کرنے کا معاملہ صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے ، لیکن وه شخص جو بیٹی کی پیدائش پر اپنی بیوی کو عار دلائے ، وہ اللہ کے ہاں بد ترین مجرم قرار پائے گا ۔

     اس لئے اپنی آخرت کو بچانے کے لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں ، خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ، کے درمیان کسی طرح کا امتیاز یا پیار و محبت میں کسی طرح کا فرق نہ کریں ، اور ان کو اللہ کا عظیم تحفہ سمجھ کر ان کی بہتر سے بہتر پرورش کریں ، اور ان کو اچھی تعلیم و تربیت دینے کی کوشش کریں ، کیونکہ متعدد احادیث نبوی کے مطابق یہی عمل والدین کے لئے دخول جنت کا باعث ہو گا ۔

                _______________________

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...