دنیاوی خوشحالی کامیابی کی علامت نہیں

 پس جب انہوں نے بھلا دیا اس نصیحت کو جو جو ان کو کی گئی اور شدت و بیماری کو جن کے ذریعے ان کو ڈرایا گیا تھا تو ہم نے ان پر بہ طور ڈھیل ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں پر اترانے لگے(جو ان کو بہ طور ڈھیل و آزمائش دی گئی تھیں ) جب آپ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نا فرمانیوں کےباوجود کسی کو اسکی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج(ڈھیل) ہے کامیابی نہیں ہے تاکہ یہ مزید مست ہو کر نا فرمانیوں پر نافرمانی کرتا چلا جائے اور اللہ اس کو شدت والے عذاب میں مبتلا کرے اور یہ مہلت اور ڈھیل عذاب کی زیادتی کا سبب بنے 

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...