حضرت مالک اشتر تابعی
مالک بن الحارث النخعی الشھیر "ب مالک اشتر" تابعی اور حدیث کے مشہور راوی ہیں۔ وہ حضرات فاروق اعظم، علی المرتضی، ابو ذر غفاری اور خالد بن ولید رضی اللہ عنھم سے روایت کرتے ہیں۔ امام عجلی لکھتے ہیں:
(باب مالك)
1667 - مالك بن الأشتر النخعي كوفى تابعي ثقة.
(الثقات للعجلي : 2/ 259)
وہ ہجرت سے 23 تا 30 سال قبل یمن میں پیدا ہوئے اور غالبا دور صدیقی میں کوفہ منتقل ہوئے۔ عرب کے بہادروں اور شہسواروں میں شمار ہوتے تھے۔ جنگ یرموک میں دشمن کے تیر سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی جس کی وجہ سے أشتر کے لقب سے مشہور ہو گئے۔ خلافت راشدہ کے جہادی معرکوں میں اپنے قبیلے کے ساتھ شریک رہے۔
آپ حضرت علی المرتضی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور جمل و صفین میں حضرت امیر المومنین کی معیت میں شریک جنگ رہے۔ 37ھ میں حضرت امیر المومنین نے انہیں مصر جیسے اہم صوبے کا گورنر بنا کر بھیجا جس سے آپ کی نظروں میں ان کے مقام اور صلاحیتوں کا ا اندازہ کیا جا سکتاہے۔ مصر پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں انہیں دھوکے سے زہر ملا شہد پلا
کر شہید کر دیا گیا۔ جب حضرت امیر المؤمنین کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ بہت غمگین ہوئے ، ان کی خوبیاں بیان کیں اور ان کے لئے دعا فرمائی۔
(کامل ابن اثیر، اخبار مصر از امام سیوطی)
ان کے بارے میں کئی منفی روایات بھی ملتی ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ انہیں حضرت امیر المؤمنین عثمان کی شہادت میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے مگر یہ بھی جھوٹ اور بہتان ہے۔ اس کے برعکس صحیح روایات ملتی ہیں کہ وہ حضرت عثمان غنی کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے۔ چنانچہ علقمہ نے مالک الاشتر سے پوچھا:
قَدْ كنت كارها لقتل عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فما أخرجك بِالْبَصْرَةِ؟
ترجمہ: آپ تو قتلِ عثمان کو ناپسند کرتے تھے، پھر آپ بصرہ (سیدہ عائشہ کے خلاف) کیوں نکلے؟
انہوں نے جواب دیا:
إن هَؤُلاءِ بايعوه، ثُمَّ نكثوا، وَكَانَ ابن الزُّبَيْر هُوَ الَّذِي أكره عَائِشَة عَلَى الخروج،
ترجمہ: اس لیے کہ ان سب نے بیعت کی اور پھر توڑ دی اور ابنِ زبیرؒ وہ تھے جنہوں نے سیدہ عائشہؓ کو خروج پر آمادہ کیا۔
(تاريخ الطبري: 4 / 520+
اس روایت کی سند کو حافظ ابنِ حجر نے صحیح کہا ہے۔ (فتح الباري شرح صحیح بخاری : 13 / 57)
مالک الاشتر حضرت عثمان غنی کو خیر امت کہتے اور ان کی شہادت کے واقعہ کو برا سمجھتے تھے۔ امام ابو بکر بن ابی شیبہ نقل کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ:
لَمَّا رَجَعَ عَلِيٌّ مِنَ الْجَمَلِ ، وَتَهَيَّأَ إِلَى صِفِّينَ اجْتَمَعَتِ النَّخَعُ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى الْأَشْتَرِ ،
فَقَالَ: هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا نَخْعِيٌّ ،
قَالُوا: لَا ،
قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَمَدَتْ إِلَى خَيْرِهَا فَقَتَلَتْهُ ، وَسِرْنَا إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَوْمٌ لَنَا عَلَيْهِمْ بَيْعَةٌ فَنُصِرْنَا عَلَيْهِمْ بِنُكْسِهِمْ ، وَإِنَّكُمْ سَتَسِيرُونَ إِلَى أَهْلِ الشَّامِ قَوْمٌ لَيْسَ لَكُمْ عَلَيْهِمْ بَيْعَةٌ ، فَلْيَنْظُرِ امْرُؤٌ أَيْنَ يَضَعُ سَيْفَهُ؟»
عمیر بن سعید نخعی سے روایت ہے کہ حضرت علی المرتضی جنگِ جمل سے واپس لوٹے اور جنگ صفین کی تیاری شروع فرمائی تو قبیلہ نخع والے جمع ہوئے اور اشتر کے پاس آئے۔ اشتر نے ان سے پوچھا: گھر میں نخع کے علاوہ کسی دوسرے قبیلے کا بھی کوئی فرد ہے؟
انہوں نے جواب دیا: نہیں،
پھر مالک اشتر نے کہا: ”اس امت نے اپنے بہترین انسان کا قصد کیا اور اس کو قتل کر ڈالا۔ ہم اہل بصرہ کی طرف گئے وہ ایسی قوم تھی جس نے ہماری بیعت کی ہوئی تھی پس ان کے بیعت توڑنے کی وجہ سے ہماری مدد کی گئی اور کل تم ایسی قوم کی طرف جانے والے ہو جو شام کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے ہماری بیعت نہیں کی۔ پس تم میں سے ہر آدمی دیکھ لے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا؟“
(مصنف ابن أبي شيبة: 6 / 196، رقم الحدیث 30615)
امام حاکم اسی واقعہ کو اپنی سند کے ساتھ قدرے تفصیل سے نقل کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ:
أَرَادَ عَلِيٌّ أَنْ يَسِيرَ إِلَى الشَّامِ إِلَى صِفِّينَ وَاجْتَمَعَتِ النَّخَعِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى الْأَشْتَرِ بَيْتَهُ، فَقَالَ: هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا نَخَعِيٌّ؟
قَالُوا: لَا،
قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَمَدَتْ إِلَى خَيْرِ أَهْلِهَا فَقَتَلُوهُ - يَعْنِي عُثْمَانَ -، وَإِنَّا قَاتَلْنَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ بِبَيْعَةٍ تَأَوَّلْنَا عَنْهُ، وَإِنَّكُمْ تَسِيرُونَ إِلَى قَوْمٍ لَيْسَ لَنَا عَلَيْهِمْ بَيْعَةٌ فَلْيَنْظُرْ كُلُّ امْرِئٍ أَيْنَ يَضَعُ سَيْفَهُ
هَذَا حَدِيثٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ سَنَدٌ فَإِنَّهٌ مُعَقَّدٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ.
عمیر بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی نے شام کی طرف صفین جانے کا ارادہ کیا تو قبیلہ نخع کے کچھ لوگ جمع ہو کر اشتر کے گھر گئے، اشتر نے ان سے پوچھا:
کیا گھر میں قبیلہ نخع سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ تو کوئی شخص نہیں؟
لوگوں نے جواب دیا: نہیں۔
تب اشتر نے کہا: ان لوگوں نے اس امت کے سب سے نیک انسان یعنی عثمان کو شہید کر ڈالا ہے، ہم نے اہل بصرہ کے ساتھ بیعت ہونے کی وجہ سے قتال کیا کہ بیعت کی وجہ سے ہم تاویل کر سکتے تھے۔ جبکہ اب تم لوگ ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو کہ ہماری بیعت ان کی گردنوں میں نہیں ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص غور کر لے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔
امام حاکم کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اگرچہ سند نہیں ہے، لیکن یہ معقد اس مقام پر صحیح الاسناد ہے۔
(المستدرك على الصحيحين: 3 / 115 ، رقم الحدیث 4571)
امام ذہبی اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
قلت: على شرط مسلم.
میں کہتا ہوں: یہ مسلم کی شرط پر (صحیح) ہے۔
(تلخيص المستدرك : 3/ 1292، رقم الحدیث 530)
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें