طوفان نوح اور اس کا چرچا

  


طوفان نوح اپنی نوعیت میں اس قدر حیرت انگیز اور مہیب تھا کہ اس کی داستانیں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ جدید میں اس کی تفصیلات مختلف انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ بابل کی تاریخوں، ہند کے رزمیوں، ویلز، اسکینڈی نیویا، لتھونیا، چین اور یونان کی داستانوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ تحریک مجاہدین ہند کے مولانا محمد جعفر شاہ تھانیسری جو کالا پانی (انڈومان) میں قید رہے اپنی داستانِ اسیری میں لکھتے ہیں کہ مقامی باشندوں کی قدیم کہانیوں میں طوفانِ نوح جیسے سیلاب کا ذکر آتا ہے۔ طوفان نوح کے واقعہ کے اس قدر عام ہونے کے کم ازکم تین امکانات ہو سکتے ہیں ١ جو لوگ کشتی پر سوار تھے اور جنہوں نے خود اپنی آنکھوں سے یہ مہیب منظر دیکھا تھا ان کے ذریعہ سے یہ واقعہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

 ٢جو لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے انہوں نے اس واقعہ کی تفصیل لکھ ڈالی۔


٣ اللہ تعالیٰ نے جو آسمانی کتابیں نازل فرمائیں ان میں اس واقعہ کا اسی طرح ذکر کیا گیا جس طرح کہ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔


بنی اسرائیل میں اس واقعہ کا چرچا زیادہ اس لیے رہا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار کروایا تھا جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر (۳) سے ظاہر ہے۔


ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعْ نُوحٍ ط


’’ان لوگوں کی ذریت یا نسل جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا‘‘۔


امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ مسخ ہوتا گیا اور مختلف علاقوں میں مختلف داستانوں کی شکل اختیار کرتا گیا۔ لیکن چار باتیں مختلف شکلوں ہی میں سہی لیکن مشترک رہیں۔


اسلام میں طوفان سے بچنے کے لیے ایک بڑی سی کشتی استعمال کرنے کا ذکر کیا گیا۔ کشتی کی تفصیلات مختلف داستانوں میں مختلف رہیں۔

 ٢ کشتی میں ایک بزرگ شخصیت اور ان کی بیوی سوار تھے۔ ان کے نام مختلف داستانوں میں مختلف ہیں۔) کشتی میں انسانوں کے علاوہ دوسرے جاندار بھی سوار کروائے گئے جن کی تفصیل مختلف ملتی ہیں۔


٣

کشتی طوفان کے اختتام پر ایک پہاڑ کی چوٹی پر جا)ٹھہری۔ پہاڑ کی چوٹی کا نام مختلف داستانوں میں مختلف ہے۔


بہرحال اس طوفان کے چرچوں سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن سائنسی نقطہ نظر سے اس کی اہمیت سب سے زیادہ اس لیے ہو جاتی ہے کہ اس کی اصلیت سائنس کی نظروں سے ابھی تک پوشیدہ ہے۔


قرآن کریم میں یہ واقعہ کسی داستان یا تاریخ کے طور پر نہیں بیان کیا گیا بلکہ عبرت اور نصیحت کے لیے بیان کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ جب کوئی قوم اللہ سے سرکشی کرنے لگتی ہے، اللہ کے احکامات کو تسلیم نہیں کرتی، اللہ کی باغی ہو جاتی ہے اور ان پر مسلسل پند و نصیحت کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اللہ کے رسول کو جھٹلاتی ہے اور اللہ کے رسول کا مذاق اڑاتی ہے تو اس کا کیا حشر ہو سکتا ہے اور اس قسم کے انجام سے دوچار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کوئی محنت بھی نہیں کرنی پڑتی بس ایک حکم ’’کن‘ سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس واقعہ کو حسب ضرورت کہیں اشارتاً کہیں اجمالاً اور کہیں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور ہر جگہ مقصود ایک ہی ہے کہ لوگوں کو اللہ کے ساتھ سرکشی کرنے، اللہ کی نافرمانی کرنے اور رسولوں کو جھٹلانے سے ڈرایا جائے اور اس کے درد ناک انجام سے باخبر کیا جائے۔


طوفان نوح کا زمانہ:

طوفان نوح کے زمانے کے تعلق سے بہت زیادہ غلط فہمی پائی جاتی ہے اور اس غلط فہمی کی بنیادی وجہ آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام اور نوح علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کا تعین ہے۔ مشہور زمانہ کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ کے مصنف موریس بوکیل (Maurice Bucaille) نے بائبل کے حوالے سے اپنی اس کتاب میں ایک چارٹ پیش کیا ہے جس میں اس سلسلۂ نسب کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی آدم علیہ السلام کی پیدائش کے حوالے سے سنہ پیدائش، عمریں اور سنہ وفات درج ہے۔ اس چارٹ کے مطابق نوح علیہ السلام، آدم علیہ السلام کی پیدائش کے ۱۰۵۶ ویں سال پیدا ہوئے۔ بائبل ہی کی رو سے جب نوح علیہ السلام کی عمر ۶۰۰ سال کی ہوئی تو طوفان کا واقعہ پیش آیا۔ اُسی چارٹ کے مطابق نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش میں (۸۹۲) سال کا فرق ہے۔ چونکہ طوفان کے وقت نوح کی عمر ۶۰۰ سال تھی اس لیے ابراہیمؑ کی پیدائش طوفان کے (۲۹۲) سال بعد ہوئی۔ دوسرے ذریعہ سے ۱۸۵۰ قبل مسیح کو ابراہیمؑ کا دور بتایا جاتا ہے۔ اس حساب سے (۱۸۵۰+۲۹۲=۲۱۴۲) قبل مسیح میں طوفان کا وقوع ہونا چاہیے اگر اس میں نوح کے سنہ پیدائش اندازاً ۳۱۹۸ قبل مسیح بنتی ہے۔ اگر اس میں ۲۰۰۸ عیسوی ملا دیئے جائیں تو زمین پر انسان کی عمر صرف ۵۲۰۶ سال بنتی ہے۔


قیامت قریب ہے اور صرف چند سو سالوں میں یہ بساط لپیٹی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اس قدر اہتمام کے ساتھ زمین بنائی صرف اس لیے کہ اُس زمین پر انسان صرف پانچ یا چھ ہزار سال ہی رہ سکے؟


منصف کے مینارۂ نور ایڈیشن میں تباہ شدہ اقوام کے زیر عنوان طوفان نوح کا واقعہ بھی چار قسطوں میں بیان کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں طوفان نوح کے زمانے کا ذکر کچھ اس طرح ملتا ہے۔ صرف خلاصہ حاضر خدمت ہے ’’عصر حاضر میں بھی طوفان نوح کے حوالے سے بہت سے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ تین ہزار برس قبل مسیح میں آنے والے اس طوفان عظیم نے آناً فاناً ایک تہذیب کو صفحۂ ہستی سے کلیتاً مٹا دیا اور وہاں ایک بالکل نئی تہذیب ظہور پذیر ہوئی۔


وادی دجلہ و فرات (Mesopotamia) میں آنے والے اس طوفان کی تحقیق کے لیے یہاں کئی کھدائیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں یہاں کے چار شہروں میں طوفان نوح کے آثار دریافت ہوئے ہیں جن کے نام ہیں اُر (UR)، ایرک (Erech)، کِش (Kish) اور شروپک (Shuruppak)۔ ان شہروں میں ہونے والی کھدائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شہر تین ہزار سال قبل مسیح کے لگ بھگ طوفان کی زد میں آئے تھے۔ اُر (UR) میں شاہان اُر کی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ ایک بادشاہ کے مقبرے کے فرش کے نیچے مٹی کی الواح دستیاب ہوئیں جن کی تحریر سے اندازہ لگایا گیا کہ وہ ۳۰۰۰قبل مسیح کی ہیں۔


شروپک شہر میں ہونے والی کھدائیوں سے بھی ۲۹۰۰۔۳۰۰۰ ق م کے دوران ہونے والے سیلاب کے آثار ملے۔ سیلاب سے متاثرہ حالیہ دریافت شدہ شہر ایرک ہے جو شروپک کے جنوب میں واقع ہے۔ یہاں بھی سیلاب کی مٹی کی تہہ موجود ہے جس کا تعلق ۲۹۰۰۔ ۳۰۰۰ ق م کے دور سے ہے۔


ان کھدائیوں کے پیش نظر اگر یہ مان لیا جائے کہ طوفان نوح تقریباً ۳۰۰۰ ق م میں پیش آیا اور اس وقت نوحؑ کی عمر مبارک ۹۵۰ سال تھی اور آپ کی پیدائش تک نوع انسانی کے ۱۰۵۶ سال گزر چکے تھے تو اس کا مطلب ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے دنیا میں انسانی وجود کی مدت ۵۰۰۶ سال رہی اور عیسیٰ علیہ السلام کے بعد گزرنے والے ۲۰۰۸ سال اور متوقع باقی مدت تقریباً ۵۰۰ سال جمع کر دی جائے تو جملہ مدت تقریباً ۷۵۰۰ سال بنتی ہے اور پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے زمین کو بڑے تزک و احتشام سے پیدا کرنے کا اہتمام اس لیے فرمایا کہ اُس زمین پر انسان کو صرف ۷۵۰۰ سال رہنے بسنے دے؟۔


اس کے برخلاف اس سائنٹیفک حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ براعظموں کی تشکیل Formation of Continents سے پہلے ہی آدم علیہ السلام کا زمین پر نزول ہو چکا تھا اور آپ کی اولاد دور دراز علاقوں میں بسنے بھی لگی تھی جیسے یورپ کے مغربی ساحل سے جڑا ہوا شمالی امریکا، افریقہ کے جنوب مشرقی ساحل سے جڑا ہوا ہندوستان وغیرہ وغیرہ اور براعظموں کی تشکیل کی ابتداء ۲۰۰ ملین سال قبل ہوئی۔ زمین پر انسان کے قیام کی یہ معقول مدت بنتی ہے لیکن چونکہ جیالوجی (Geology) کے ماہرین مختلف کھدائیوں کے باوجود طوفان نوح کے آثار تک ابھی تک نہیں پہنچ پائے اس لیے اس کے زمانے کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔


نوح علیہ اسلام پہلے نبی اور رسول تھے جنہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچانے اور انسان کی اصلاح کرنے کے لیے اس وقت بھیجا گیا تھاجبکہ بت پرستی عام ہو گئی تھی اور لوگ شرک اور دوسری برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ نوح کے بعد اللہ تعالیٰ نے تقریباً ایک لاکھ ۲۵ ہزار انبیاء و رسل مبعوث فرمائے۔ اتنی بڑی تعداد صرف ۵۰۰۰ سالوں یا ۷۵۰۰ سالوں میں مبعوث نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ طوفان نوح کئی ملین سال پہلے پیش آیا اور کھدائیوں سے دستیاب ہونے والے شواہد دجلہ و فرات کی طغیانیوں کے آثار تھے طوفان نوح کے ہر گز نہیں۔ ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ کے مصنف کا بھی استدلال یہی ہے کہ یہ واقعہ کسی بھی طرح بائبل کے حساب سے اکیسویں صدی ق م میں پیش آہی نہیں سکتا کیونکہ اس وقت تک مصر بہت زیادہ ترقی یافتہ ہو چکا تھا اور وہاں کسی تہذیب و تمدن کے انقطاع یا سیلاب زدگی کی کوئی علامت نہیں ملتی جس سے کسی طوفان یا طوفان کی عالمگیر نوعیت کا پتا چلتا۔


نوح کی تبلیغ کا علاقہ:

نوح کی تبلیغ کا شاید ایک علاقہ نہیں تھا بلکہ وہ سارے علاقے شامل تھے جو کہ طوفان کی زد میں آگئے تھے تاکہ ظالم قوم اپنے انجام کو پہنچے۔ لیکن جس طرح ہود علیہ السلام کی قوم عاد کے تعلق سے احقاف کی نشاندہی کی گئی ہے، شعیب علیہ السلام کی قوم کو ’’اصحاب الایکہ‘‘ یعنی بن والے کہا گیا ہے۔ صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کے لیے مدائن صالح مشہور ہے۔ اس طرح نوح ؑکی قوم کے لیے کسی مقام یا مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ نوح کی پیدائش آدم علیہ السلام کے زمین پر وارد ہونے کے ۱۰۵۶ سال بعد ہوئی اور طوفان کے وقت آپ کی عمر ۹۵۰ سال تھی اس طرح ۲۰۰۶ سالوں میں آدم علیہ السلام کی اولاد کافی پھلی پھولی ہو گی اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جنہوں نے دور دراز علاقوں کی جانب ہجرت کی جیسے کہ امریکا، جنوبی افریقہ یا انڈیا جو کہ اس وقت جنوب مشرقی افریقہ سے جڑا ہوا تھا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد نے کئی شہر بسائے ہوں گے۔ ان میں سے جن کے طوفان کی زد میں آنے کا امکان ہے یعنی جہاں جہاں نوح نے تبلیغ کی ہو گی ان کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے۔


کوفہ: قوم نوح دریائے فرات کے مغرب میں جس مقام پر آباد تھی وہ موجودہ کوفہ کے آس پاس کا علاقہ تھا۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں ۱۷ھ میں یہاں کچھ نہیں تھا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے جب مدائن فتح کیا تو حضرت عمرؓ کی اجازت اور مشورے سے فرات کے دائیں کنارے موجودہ شہر کوفہ بسایا گیا۔


نینویٰ: یہ شہر دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ شہر موصل کے بالمقابل واقع تھا۔ ایک روایت کے مطابق قوم نوح یہاں آباد تھی۔ شاید طوفان سے تباہ ہونے کے بعد اشوری حکمرانوں نے اسے آباد کیا ہو، کیونکہ یہ اشوری سلطنت کا قدیم ترین شہر اور دارالحکومت تھا۔


مکہ مکرمہ: یہ شہر آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا مرکز رہا ہو گا۔ پھر بھی جب حضرت ابراہیمؑ نے حضرت ہاجرہ علیہما السلام اور حضرت اسمٰعیل ؑ کو موجودہ حرم کے قریب چھوڑا تھا تو وہاں کچھ نہ تھا۔ دور دور تک آبادی یا انسان کا کوئی نام و نشان تک نہ تھا اس کا مطلب ہے کہ یہ شہر بھی ضرور طوفان کی زد میں آکر بے نام و نشان ہو گیا ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی مصلحت کی بناء پر اس کی دوبارہ آباد کاری حضرت ہاجرہ علیہما السلام کے ہاتھوں ہوئی۔


چونکہ دجلہ و فرات کے درمیانی میدان ہی کو نوح کا علاقہ سمجھا گیا۔ اسی لیے مکہ مکرمہ یا مکہ مکرمہ کے اطراف دوسرے شہروں کی جانب تحقیقات کرنے والوں کی نظریں نہیں گئیں حالانکہ آدم علیہ السلام کی اولاد نے مکہ مکرمہ کے اطراف کافی شہر بسائے ہوں گے جو کہ طوفان نوح کی زد میں آ سکتے تھے۔


ڈاکٹر شوقی ابو خلیل کی تالیف ’’اخلس القرآن‘‘ کے بموجب نوح کے علاقے کی مساحت ایک لاکھ چالیس ہزار مربع کلومیٹر تھی۔ لیکن اگر طوفان کی وسعت کا اندازہ لگایا جائے جو کہ صرف ظالم قوم کو غرق کرنے کے لیے برپا کیا گیا تھا تو یہ وسعت کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔


طوفان نوح کی وسعت اور اونچائی:

سورہ ہود کی آیت نمبر ۴۲ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَہِیَ تَجْرِیْ بِہِمْ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ… ’’کشتی ان کو پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر چل رہی تھی‘‘ اور آیت نمبر۴۳ میں نوح کے بیٹے کا یہ خیال کہ قَالَ سَآوِیْ اِلَی جَبَلٍ یَعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآء… ’’میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا‘‘ اور اس کا پانی میں غرق ہو جانا اور پھر آیت نمبر۴۴ کے مطابق وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ…ِّ ’’اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری‘‘ سے پتا چلتا ہے کہ طوفان کے پانی میں وہاں کی پہاڑیاں ڈوب چکی تھیں۔ جودی جو ارارط پہاڑی کی ایک چوٹی ہے وہ بھی طوفان کے پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تب ہی نوح کی اتنی بڑی کشتی اس چوٹی تک تیرتے ہوئے پہنچ سکی۔ جودی مشرقی ترکی میں اس مقام پر ہے جہاں ترکی آرمینیا اور ایران کی سرحدیں ملتی ہیں۔ آرمینیا کی سرحد پر کوہ اراراط کے نواح میں نوح کے مختلف آثار کی نشاندہی اب بھی کی جاتی ہے اور شہر غنچیوان کے باشندوں میں آج تک مشہور ہے کہ اس شہر کی بناء نوح نے طوفان کے بعد ڈالی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جودی کی برف پوش چوٹی پر نوح کی کشتی آج بھی موجود ہے۔ اس لیے بعض حلقوں کی اسی رائے کے آگے کہ قرآن کریم نے جودی سے کوئی مخصوص پہاڑ نہیں لیابلکہ اس طرف اشارہ کیا ہے کہ طوفان کے بعد کشتی ایک بلند جگہ پر آکر رک گئی اس کے علاوہ لفظ جودی کے معنی سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ طوفان کا پانی ایک مخصوص سطح تک بلند ہو کر رک گیا تھا اور پہاڑوں سے بلند نہ ہوا تھا، بہت بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ جودی کی اونچائی ۵۱۶۵ میٹر ہے۔ (یعنی ۱۶۷۸۶ فٹ ہے) اس طرح طوفان کے پانی کی بلندی ۵۱۶۵ میٹر سے کچھ زیادہ ہی رہی ہو گی تب ہی تو نوح کی اتنی بڑی کشتی جودی کی چوٹی پر تیرتے ہوئے پہنچ سکی اور طوفان کے تھمنے کے بعد اسی چوٹی پر ٹھہری رہ گئی۔ نوح علیہ السلام کے مرکز یعنی موجودہ کوفہ کے مقام سے جودی کا فاصلہ تقریباً ۶۰۰ کلومیٹر ہے۔ کشتی اس مرکز یعنی موجودہ کوفہ کے مقام سے چلی اور ۵ کلومیٹر تھی تو اس پانی کو نوح کے مرکز اور جودی کے اطراف ہزاروں کلومیٹر تک پھیل جانا چاہیے اور اس علاقہ کو ایک بہت بڑے سمندر میں تبدیل ہو جانا چاہیے۔ شمال میں کوہ اراراط کی وجہ سے پانی زیادہ دور نہ جا سکا ہو گا لیکن جنوب مشرق اور مغرب میں اس کی وقعت ہزاروں کلومیٹر رہی ہو گی۔


اُس وقت ساتوں براعظم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور ایک براعظم پانگیا (Pangea) کا وجود تھا اور یہ رقبے میں اتنا زیادہ تھا کہ ۵ کلومیٹر اونچا پانی اس سارے رقبے پر نہیں پھیل سکتا تھا۔ اس لیے ساری دنیا اس طوفان سے متاثر نہیں ہو سکتی تھی اسی لیے اس طوفان کو عالمگیر نوعیت کا طوفان نہیں کہا جا سکتا۔ اور آدم علیہ السلام کی وہ اولاد جو اُس وقت تک دور دراز علاقوں میں جیسے امریکا، جنوبی افریقہ انڈیا وغیرہ میں منتقل ہو چکی تھی اس طوفان سے محفوظ رہی ساتھ ہی دور دراز علاقوں میں پائے جانے والے جنگلی جانور بھی۔


طوفان کے پانی کا منبع

طوفان کے پانی کی اونچائی اور وسعت کے تعلق سے اوپر بیان کردہ حقائق کے بعد بعض حلقوں میں یہ خیال کہ یہ پانی محض دجلہ اور فرات کی طغیانیوں کا نتیجہ تھا خود ہی کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ پانی اللہ تعالیٰ کے طوفان کے لیے خاص طور پر پیدا کردہ تھا۔ اس کا ایک ذریعہ تو زمینی پانی (Groundwater) تھا اور دوسرا ذریعہ آسمانی پانی یعنی بارش تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر کی آیت نمبر۱۱ اور ۱۲ میں ارشاد فرمایا ہے۔


فَفَتَحْنَا اَبْوَابَ السَّمَآء بِمَآء مُّنْہَمِرٍo وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآء عَلٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرo


’’پھر ہم نے موسلا دھار برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین میں جگہ جگہ چشمے جاری کر دیئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فیصلہ پورا کرنے کے لیے زمین و آسمان کا پانی مل گیا‘‘۔


اگر اس وقت سائنس دانوں کی ٹیم نے زمین میں واٹر ٹیبل (Watertable) دیکھا ہوتا یعنی (Check) کیا ہوتا تو وہ حیران رہ جاتے کہ اتنا پانی زمین میں موجود ہی نہ تھا جتنا کہ زمین سے اُبل پڑا تھا۔ اور اسی طرح اتنی زیادہ بارش کے کوئی امکانات سرے سے موجود ہی نہیں تھے جتنی اُس وقت برسی تھی۔ جیسا کہ سورہ القمر کی آیات سے واضح طور پر پتا چل رہا ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم خاص کے تحت ہوا تھا۔ دجلہ و فرات کی طغیانیوں کی وجہ سے ہر گز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو بارش بھی رک گئی اور زمین سے پانی ابلنا بھی بند ہو گیا۔ جیسا کہ سورہ ہود کی آیت نمبر ۴۴ سے ظاہر ہے۔


وَقِیْلَ یَا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَآء کِ وَیَا سَمَآء اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآء…


’’حکم دے دیا گیا اے زمین اپنا سارا پانی نگل لے اور اے آسمان! برسنے سے رک جا۔ اس طرح پانی سکھا دیا گیا‘‘۔


یعنی زمین سے چشموں کا اُبلنا اور آسمان سے دھواں دھار بارش کا تھم جانا اور چشموں سے پانی کا بند ہو جانا اور پھر زمین کا خشک ہو جانا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم خاص کے تحت ہی ہوا تھا اور یہ سب کچھ ایک خاص مقصد کے لیے ہوا تھا اور وہ یہ کہ نافرمان اور ظالم قوم کو سزا دی جائے۔


نوح ؑکی کشتی

قرآن مجید میں طوفان نوح کا واقعہ عبرت اور نصیحت کے لیے بیان کیا گیا ہے نہ کہ داستان یا تاریخ کے طور پر۔ اسی لیے قرآن مجید میں صرف کشتی کا ذکر ہے۔ کشتی کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ لیکن عہد نامہ قدیم میں کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ، چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ بتائی گئی ہے اور اسی طرح کشتی کی منزلوں کی تعداد بھی تین بتائی گئی ہے۔


لیکن قرآن مجید سے کشتی سے متعلق دوسری کئی ایک باتوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ مثلاً (۱) اس وقت تک اتنی بڑی کشتی نہیں بنائی گئی تھی نہ ہی اتنی بڑی کشتی بنانے کی ٹیکنالوجی ان کے پاس تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے وہ کشتی اپنی نگرانی میں اور اپنے احکامات کے مطابق بنوائی جیسا کہ سورہ ہود کی آیت نمبر (۳۷) کے اس حصے سے ظاہر ہے۔


وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا…


’’ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایات کے مطابق کشتی تیار کر‘‘۔


(۲) کشتی لکڑی کے تختوں اور کیلوں کی مدد سے تیار کی گئی جیسا کہ سورہ القمر کی آیت نمبر ۱۳ سے ظاہر ہے۔


وَحَمَلْنَاہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَدُسُرo


’’اور ہم نے اس کو تختوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کروایا‘‘۔


اس کا مطلب ہے کہ اُس وقت تک سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی تو ہو ہی چکی تھی کہ نوح کی قوم لوہے کی کانوں سے خام لوہے کا حاصل کرنا اس میں کاربن کی مناسب مقدار شامل کر کے مختلف ہتھیار اور اوزار بنانا جانتی تھی۔ تب ہی تو اُن کے پاس درختوں کو کاٹنے اور پھر بڑے بڑے تختے بنانے کے اوزار موجود تھے۔ ساتھ ہی انہیں بڑے چھوٹے کیلیں بنانا اور ان کے ذریعے سے تختوں کو جوڑنا بھی آتا تھا اور کشتی کو ایک پروف (Leak Proof) بنانے کے ہنر سے بھی وہ پوری طرح واقف تھے۔ سائنس پرانی تہذیبوں پر سے پردہ اٹھانے لگے تو اس کو حیرت کا ایک جھٹکا لگے گا کہ کئی ملین سال پہلے ایک تین منزلہ کشتی بنائی گئی تھی جو اس قدر عمدہ اور مضبوط تھی کہ پہاڑوں جیسی لہروں میں سفر کرتی ہوئی تقریباً ۶۰۰ کلومیٹر دور تک صحیح و سلامت جا پہنچی تھی۔ جبکہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے تیار کی ہوئی کتنی کشتیاں یا جہاز محض چھوٹے سے طوفان کا مقابلہ نہ کر پائے اور غرقاب ہو گئے۔


کشتی میں کون سوار تھے

یہ جاننے کے لیے کہ کشتی میں کون سوار تھے اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ کشتی میں سوار کروانے کا مقصد کیا تھا۔ کشتی میں سوار کروانے کا اولین مقصد نوح علیہ السلام ان کے اہل اور مومنین کو طوفان کی ہلاکت سے بچانا تھا۔ ساتھ ہی ان کی ملکیات کو بھی۔ ملکیات میں مکانات کو تو چھوڑ دینا لازم تھا ہاں پالتو جانور ساتھ لیے جا سکتے تھے۔ لیکن اس زمانے کے رواج کے مطابق ہر کسی کے پاس گائے، بھیڑ، بکری یا اونٹوں کے ریوڑ رہے ہوں گے اور وہ سارے کے سارے کشتی میں سوار نہیں کروائے جا سکتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنے اپنے ریوڑ میں سے ہر پالتو جانور کے دو دو جوڑے رکھ لیے جائیں جو فوری طور پر زندگی گزارنے کے لیے کافی ہوں گے اور پھر ان کی تیزی کے ساتھ افزائش نسل بھی ہو جائے گی۔ طوفان کی زد میں آنے والا علاقہ اس وقت کے براعظم پانگیا (Pangaea) کے رقبے کا ایک چوتھائی بھی نہیں بنتا تھا اس لیے حشرات الارض، درندوں اور پرندوں کی نسلوں کی حفاظت ہر گز مقصود نہیں ہو سکتی تھی اس لیے ان کے جوڑوں کا کشتی میں سوار کروانا بعید از فہم بات معلوم ہوتی ہے۔


(بحوالہ: ’’سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاٹ کام‘‘)

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...