یکساں سول کوڈ اور منفی اثرات


جب ہندوستان آزاد ہوا، اور ملک کا   

دستور بنا تو اس میں  ’’مسلم پرسنل لا" کی بھی قانونی حیثیت تسلیم کی گئی اور طویل ترین ماضی کی روایات اور عوامی رجحان جس کی بنیاد مذہب پر ہے، کا احترام کیا گیا اور قانون سازوں نے صاف طورپر دستور ساز اسمبلی میں اعلان کیا کہ ’’مسلم پرسنل لا‘‘ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

اب اس ملک میں مسلم پرسنل لا کو ختم کرکے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کی بات کی جاتی ہے۔ ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ یا ’’یکساں شہری قانون‘‘ سے مراد وہ قوانین ہوا کرتے ہیں جو کسی بھی مخصوص خطہ زمین پر آباد لوگوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لیے بنائے گئے ہوں، ان قوانین کے تحت ہر فرد کی شخصی اور خاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اور نکاح و طلاق، فسخ و ہبہ، وصیت و وراثت اور تبنیت جیسے امور انھیں قوانین کے ذریعہ حل کیے جاتے ہیں، ان قوانین کے نفاذ میں کسی شخص کے مذہب ، اس کی تہذیب اور رسم و رواج کا خیال نہیں کیا جاتا، ان چیزوں سے بالکل الگ ہوکر ہر مذہب کے ماننے والے کے لیے ایک قانون ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ ہے۔ اور اسی قانون کے تحت نکاح اور طلاق جیسے امور بھی انجام پاتے ہیں، یعنی سول کوڈ کے ذیل میں وہ سارے امور آجاتے ہیں جن کا تعلق پرسنل لا سے ہوتا ہے۔
ہندوستان میں ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی ہدایات کے خلاف نکاح و طلاق جیسے معاملات انجام دینا ہوں گے، وصیت اور وراثت کے معاملہ میں بھی انھیں مذہبی قانون کے بجائے دوسرے قوانین پر عمل کرنا ہوگا، اسی طرح دوسرے مذہب اور رسم و رواج کے پابند لوگوں کو بھی اپنا مذہب چھوڑنا ہوگا، اپنے رواج کو مٹانا ہوگا اور نئے قانون کا پابند ہونا پڑے گا۔ اس طرح ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ واضح طورپر ’’مسلم پرسنل لا‘‘ سے مختلف ایک قانون ہے۔ جس کے نفاذ کے بعد ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ حقیقت ہے کہ نیم سرکاری یا غیر سرکاری سطح سے مختلف قسم کے اجتماعات کے ذریعہ ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کی راہ ہموار کی جاتی رہی ہے۔ اعتدال پسند اور انتہا پسند قسم کے چھوٹے چھوٹے گروپ بھی تیار ہوچکے ہیں، جو براہ راست یا بالواسطہ یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی جدوجہد کررہے ہیں، ایسی انجمنیں بھی بن چکی ہیں جن کا بنیادی موضوع یہی مسئلہ ہے، ایسے افراد، گروپس اور انجمنیں خواہ انھیں مسلم عوام اور قرآن و سنت سے واقف حضرات کا تعاون حاصل نہ ہو اور ان کی آواز مسلم معاشرہ سے بالکل الگ ایک آواز ہو مگر یہ قوتیں اپنی سطح پر کام کررہی ہیں اور انھیں یہ کہتے ہوئے ذرا ہچکچاہٹ نہیں ہوتی کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ہمارے ساتھ ہے۔ خود حکومت کے ذمہ داران کا ذہن بھی ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے ساتھ ہے، اور مختلف موقعوں پر ان حضرات کی طرف سے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے نفاذ کے ارادوں کا اظہار ہوا ہے، مثلاً جب ہندو پرسنل لاکو نئی شکل دی جارہی تھی تو اس وقت کے مرکزی وزیر قانون مسٹر پاٹسکر نے کہا تھا۔ ’’ہم نے آئین کے نفاذ (۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ء) کے بعد اسپیشل میریج ایکٹ ہندو میریج ایکٹ پاس کیے ہیں۔
۱۹۶۳ میں حکومت نے ایک کمیشن مقرر کرنا چاہا تھا، جس کا مقصد مسلم پرسنل لا میں تبدیلی پر غور و فکر اور اس کے لیے عملی راہوں کی تلاش تھا، مسلمانوں کی ہمہ گیر مخالفت کے نتیجہ میں یہ کمیشن مقرر نہیں کیا گیا۔ اور وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر بحث ختم کردی کہ حکومت اس وقت (مسلم پرسنل لا) میں کوئی ترمیم کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔ یہ جملہ خود بتارہا ہے کہ مسئلہ ختم نہیں ہوا، نہ پالیسی میں فرق آیا، حالات سازگار نہیں ہیں، اس لیے اس پالیسی پر عمل نہیں ہوگا۔ ۱۹۷۲ء میں مرکزی وزیر قانون مسٹر گوکھلے نے پھر اس پالیسی کا اعادہ کیا انھوں نے Adoption of Children Bill 1972 (متبنیٰ بل)کو پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں کہا۔ ’’یہ مسودہ قانون ’یونیفارم سول کوڈ‘ کی طرف ایک مضبوط قدم ہے‘‘۔
مختلف وزراء قانون کے بیانات حکومت کی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ حکومت ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے سلسلہ میں دستور کے ’’رہنما اصول‘‘ کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے لیے ہر فرقہ و طبقہ کا ذہن تیار ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کے اندر اور حکومت کے باہر کچھ ایسے حضرات بھی موجود ہیں جن کا ذہن رائے عامہ کے احترام سے خالی ہے اور جو قوت کے سہارے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
حکومت مسلسل ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے نفاذ کی خواہش مند رہی ہے اور ایک عرصہ سے ملک کا ایک طبقہ جس میں بڑی تعداد ہندوؤں کی ہے اور کچھ مسلمانوں کی، اسے نافذ کرنے کے لیے ذہن سازی کی پوری کوشش کررہا ہے۔ کچھ لوگ انتہاپسندوں کی شکل میں قوت کے سہارے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے نفاذ کا مشورہ دیتے ہیں، کچھ لوگ اصلاح کے نام پر اس کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں اور بعض حضرات ناصح مشفق بن کر حالات کے تقاضوں کی رعایت کی سفارش کرتے ہیں، لیکن یہ سارے طبقے جو مختلف قسم کے مشورے دے رہے ہیں ایک ہی منزل کے راہی ہیں، ہر ایک کی تجویزیں الگ ہیں، ان کے لب و لہجہ میں فرق ہے، ان کے دلائل مختلف ہیں لیکن گہرا جائزہ یہی بتلاتا ہے کہ ان سب کا مقصد ایک ہے اور دیر یا سویر یہ سب ایک ہی جگہ پہنچ جائیں گے۔
منزل کے اس اتحاد کی وجہ یہ ہے کہ اس ذہن کے لوگ مغربی افکار و خیالات کے اسیر ہیں، ان کی تعلیم و تربیت مغربی طرز کی ہے، وہ مغربی معاشرہ سے ذہنی اور عملی تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے مغربی قوانین کو پڑھا اور سمجھا ہے، اس لیے ہندوستانی دستور کے فریم میں انھیں مسلم پرسنل لا جیسی چیز اجنبی لگتی ہے۔ وہ شریعت کو زائد ضرورت سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ شریعت فرد کا ایک پرائیوٹ معاملہ تو ہوسکتا ہے قانون نہیں بن سکتا ہے۔ مغربی انداز فکر کی وجہ سے ان کے نزدیک مشرق کی روایتیں بھی قابل احترام نہیں ہیں، اور نہ مشرقی مزاج و انداز انھیں بھاتا ہے۔ ان کے نزدیک کسی چیز کو پرکھنے کے لیے صرف اساتذۂ مغرب کی دی ہوئی کسوٹی ہے۔ مغرب سے الگ ہوکر ان کے سامنے نہ کوئی دعوت ہے نہ پیغام، نہ طرز فکر ہے، نہ راہ عمل ’’مغرب‘‘ نے یونیفارم سول کوڈ، کی تعلیم دی ہے۔ وہاں مذہب کے نام پر جو کچھ ہے وہ صرف زندگی کا پرائیوٹ معاملہ ہے، وہاں مذہب کا دائرہ عبادات اور رسول تک محدود ہے۔ اس لیے ایسے حضرات ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے سوا کسی اور چیز کو مشکل ہی سے سوچ سکتے ہیں۔
یونیفارم سول کوڈ کی حمایت کا دوسرا اہم سبب وہ قوانین ہیں جنھیں پارلیمنٹ نے ۱۹۵۴ء اور ۱۹۵۶ء کے درمیان منظور کیا ہے، جس کے نتیجے میں ’’ہندو پرسنل لا‘‘ کی ایک خاص شکل ابھری ، یہ شکل ہندو مت تصورات سے بالکل الگ ہے، اسی وجہ سے خاصے تعلیم یافتہ ہندوؤں نے ان قوانین کی سخت مخالفت کی تھی اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرشاد نے بہت چیں بجیں ہوکر ان قوانین پر مہر تصدیق ثبت کی تھی۔ ہندو پرسنل لا، کی منسوخی کے وقت ہی یہ ذہن بننے لگا تھا کہ ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کو بھی منسوخ ہونا چاہیے اور جس طرح ہندوؤں کے لیے مغرب سے برآمد کردہ پرسنل لا نافذ کیا جارہا ہے اسی طرح کا پرسنل لا ہر ہندوستانی کے لیے نافذ ہونا چاہیے۔ 
یونیفارم سول کوڈ کی حمایت میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کی بعض دفعات سے متعلق ہیں اور کچھ دلائل براہ راست ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ سے متعلق ہیں۔ان دلائل سے بنیادی طورپر چار چیزیں سامنے آئیں:
۱) آئینی زاویۂ نگاہ سے یہ چیز پیش کی جاتی ہے کہ دستور کے رہنما اصول کی دفعہ (۴۴) کے پیش نظر ملک کے تمام باشندوں کا ’’سول کوڈ‘‘ ایک ہونا چاہیے۔ دستور کے یہ رہنما اصول دراصل وہ خاکے ہیں جو ملک کے مستقبل کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ حکومت کو ایسی راہ اختیار کرنی چاہیے جس پر چل کر رہنما اصول کے مقاصد پورے ہوسکیں۔
۲) ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، سیکولرزم کا لازمی تقاضہ ہے کہ ملکی قوانین مذہبی پابندیوں سے آزاد ہوں، اس لیے یونیفارم سول کوڈ کے ذریعہ غیر مذہبی عائلی قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔
۳) مذہبی قوانین پرانے ہیں، زندگی کی دوڑ میں اب ان کی کوئی افادی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ہے، وہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں، نہ ان میں سماجی پیچیدگیوں کے حل کرنے کی صلاحیت ہے، بدلتے ہوئے سماج کے لیے منجمد تعلیمات کا قدیم مجموعہ کبھی بھی مفید نہیں ہوسکتا، اس لیے ’’مذہبی قوانین‘‘ کی جگہ نئے قوانین کو نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ ایک طاقت ور سماج کی تشکیل ہوسکے۔
۴) ہندوستان میں مختلف مذہب کے ماننے والے موجود ہیں، ان میں یکجہتی کے جذبہ کو فروغ دینے اور اتحاد کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے شخصی قوانین ایک ہوں۔ مختلف قسم کے شخصی قوانین باہمی اختلافات کا ذریعہ بنتے ہیں اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا ہے۔
مسلمان ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے مخالف ہیں: ہندوؤں کا مذہبی طبقہ بھی اس سے اتفاق نہیں رکھتا۔ مسلمانوں کے اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ مذہبی تعلیمات سے متصادم ہے، اس کے نفاذ کے بعد عائلی اور شخصی زندگی میں قرآن و سنت کی ہدایات سے دستبردار ہونا پڑے گا، اور ایک ایسے قانون کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں مذہب کی مقرر کی ہوئی حدیں مٹ جائیں گی اور فرد کی شخصی زندگی سے حلال و حرام کا وجود ختم ہوجائے گا، مسلمان اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ ان قوانین کے ذریعہ اپنی عائلی اور شخصی معاملات و مسائل کا حل نکالیں جن کا ہر قدم پر مذہب سے ٹکراؤ ہوتا رہے۔
جن لوگوں نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ہے اور اسلام کو بعض دوسرے مذاہب کی طرح عبادات اور رسم و رواج کا مجموعہ سمجھتے ہیں، انھیں یکساں شہری قوانین کے نفاذ کے خلاف مسلم رائے عامہ کی وجہ سمجھ میں نہیں آسکتی اور جو لوگ مسلمانوں کی مذہب سے وابستگی کا علم نہیں رکھتے وہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ مسلم رائے عامہ اس مسئلہ پر کتنی مضبوط ہوسکتی ہے لیکن مسلمانوں کی مذہب سے بھرپور وابستگی اور اسلامی تعلیمات کی وسعت انھیں اجازت نہیں دیتی کہ وہ شخصی زندگی کے مذہبی قوانین سے دست بردار ہوں، کیوں کہ یہ مذہبی قوانین بھی دین کا ایک اہم حصہ ہیں، اور ان کی بنیاد بھی اسی طرح قرآن و سنت میں موجود ہے جس طرح نماز، روزہ اور دوسرے عبادات کی۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے کچھ تہذیبی امتیازات ہوتے ہیں جن کا تعلق بڑی حد تک ’’پرسنل لا‘‘ سے ہوا کرتا ہے، بعض مذاہب کے یہ امتیازات مذہبی تعلیمات کی بنیاد پر نہیں بلکہ رسم و رواج اور جغرافیائی حالات کے ماتحت ہیں، مسلمانوں کے بھی تہذیبی امتیازات ہیں جن کی بنیاد مذہبی تعلیمات پر ہے، مسلمان آمادہ نہیں ہیں کہ وہ تہذیبی امتیاز سے دستبردار ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان بلا وجہ امتیازی نقطۂ نظر یا علیحدگی پسندی کا جذبہ رکھتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ تہذیبی امتیاز، مذہبی تعلیمات کی بنیاد پر ہے، یوں بھی تہذیبی رنگارنگی اور عائلی زندگی کے طور طریقوں کی جداگانہ نوعیت کا نتیجہ علیحدگی پسندی نہیں ہوا کرتا، علیحدگی پسندی، قومی معاملات سے بے تعلقی، مشترکہ سماجی ربط کی کمی، رفاہی کاموں سے دوری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔
سیکولرزم کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ ہندوستان میں ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ نافذ کیا جائے نہ سیکولرزم کا یہ مفہوم ہے کہ ریاست کے چپہ چپہ سے مذہبی نقوش، سماج سے مذہبی روایات اور افراد کے دلوں سے مذہبی تعلیمات کو کھرچ کھرچ کر مٹادیا جائے۔ سیکولر ریاست کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا وہ کسی مذہب کی طرف دار نہیں ہوگی اور کسی مذہب کے ماننے یا نہ ماننے کی وجہ سے کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ ہر فرد کو مذہب کے قبول کرنے کی آزادی ہوگی۔ یہ مفہوم دستور ہند سے واضح ہوتا ہے اور اس مفہوم کے پیش نظر یہاں قوانین بنائے گئے ہیں اس کے بعد یہ سوال نہیں اٹھتا کہ سیکولرزم کا لازمی تقاضہ ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ ہے۔
ملک کے لیے اتحاد اور قومی یکجہتی بڑی اہم ضرورت ہے اور ہندوستان میں آباد مختلف فرقوں کے درمیان دوستی خیرسگالی اور رواداری کے جذبہ کو فروغ دینا بہترین ملکی خدمت ہے، لیکن ’’قومی یک جہتی‘‘ کو سیاسی استحصال کے لیے استعمال کرنا بدترین قسم کی وطن دشمنی ہے، ہر وہ چیز جو ایک مخصوص قسم کے ذہن رکھنے والوں کو اپیل کرے، وہ سیکولرزم کا تقاضہ اور قومی یکجہتی کا ذریعہ بن جائے اور جو چیز اس ذہن کے خلاف ہو، اسے تعصب، تنگ نظری اور فرقہ پرستی کے خانہ میں رکھ دیا جائے۔ یہ غلط اور ملک کے مستقبل کے لیے مہلک ہے۔
قومی یکجہتی اور باہمی رواداری کا ’’یکساں سول کوڈ‘‘ سے کتنا اور کس طرح کا تعلق ہے؟ اس کا اندازہ اس طرح لگاناچاہیے کہ جن مسائل کا تعلق افراد کی شخصی زندگی سے ہے، ان کی بناء پر آج تک دو فرقوں کے درمیان کوئی اختلاف رونما نہیں ہوا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی یا دوسرے فرقوں کے درمیان نکاح و طلاق، ہبہ و وراثت وغیرہ جیسے مسائل کو لے کر کبھی اختلاف ہوا ہو، اس کی مثال نظر نہیں آتی، کیونکہ یہ معاملات دو فرقوں کے درمیان نہیں ہوا کرتے ایک فرقہ کے دو یا چند افراد کے درمیان ہوتے ہیں اس کے برخلاف دو فرقوں کے درمیان شادی (جو یونیفارم سول کوڈ کی ایک دفعہ بن سکتی ہے) سے بڑے تلخ نتائج سامنے آئے ہیں، اور کئی بار شدید ترین فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی ہے، اس لیے واقعات کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہے کہ مختلف فرقوں کے علیحدہ شخصی قوانین قومی یک جہتی اور ملکی اتحاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے!
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی ایسے اہم مسائل موجود ہیں جن کی وجہ سے ملکی اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچا ہے اور مستقبل میں مزید نقصانات کا خطرہ ہے، لیکن دوسری مصلحتوں کی وجہ سے ان مسائل اور عوامی مزاج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، انھیں ملکی سالمیت کے نام پر ختم نہیں کیا گیا۔ انھیں مسائل میں سے زبان کا مسئلہ دہکتا ہوا انگارہ ہے، جس نے آسام میں ہلچل پیدا کردی، بنگال کو ہنگاموں پر اکسایا اور جنوب و شمال کے درمیان عداوت و نفرت کی خلیج حائل کردی، اس خلیج کا اندازہ ماضی کے ہنگاموں سے لگایا جاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے مستقبل میں یہی چیز علیحدگی کا ذریعہ بنے۔ لیکن ان تمام واقعات کے باوجود ’’زبان‘‘ کے مسئلہ پر قومی یکجہتی اور ملکی سالمیت و اتحاد کی خوش کن آواز سننے میں نہیں آتی، اور اگر آتی ہے تو صرف اس لیے کہ اس ذریعہ سے ہنگاموں کو روکا جاسکے۔
یہ حقیقت ہے کہ شخصی زندگی کے یہ قوانین، قومی اتحاد اور یک جہتی پر برا اثر نہیں ڈالتے اور یونیفارم سول کوڈ، قومی یک جہتی کا ذریعہ نہیں بن سکتا، قومی انتشار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ قانون سازی ایسی ہونی چاہیے کہ اس ملک میں آباد تمام مذہبی، تہذیبی اور لسانی اکائی اپنی انفرادیت کو محفوظ سمجھے اور اس قانون کے دائرہ میں رہ کر وہ ملک کے استحکام اور ترقی میں پرسکون، باعمل شہری کی حیثیت سے حصہ لے سکے۔ قانون سازی کا یہ طریقہ ملک میں یکجہتی کی فضا پیدا کرنے میں معاون ہوگا۔ لیکن اگر مختلف تہذیبی، لسانی یا مذہبی اکائیاں کسی قانون کے ذریعہ اپنی انفرادیت کو مٹتا ہوا محسوس کریں گی تو ان میں رد عمل ہوگا۔ وہ اس قانون کے خلاف آواز بلند کریں گی۔ قانون سازوں پر ان کا اعتماد باقی نہیں رہے گا اور قومی یک جہتی کو نقصان پہنچے گا۔ مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ ان کی تہذیبی اور سماجی انفرادیت کے خاتمہ کا ذریعہ ہوگا، اسی لیے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ قومی یک جہتی کا ذریعہ نہیں، قومی انتشار کا وسیلہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...