عید قرباں اور عقلی شواہد
اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چھوٹا اپنے بڑے کیلئے قربان ہوتا ہے کبھی اپنی خواہشات ترک کرتاہے کبھی اپنی مرضیات کو الوداع کہتاہے شاگرد اپنے استاذ کیلئے مرید اپنے پیر ومرشد کیلئے بیٹا باپ کیلئے اپنی ہوائے طبعیہ کو خیرآباد کہدیتے ہیں ملازم اپنے افسر اور بوس کیلئے اپنی خوشی اور اپنے تہواروں کی رخصت قربان کرتاہے سرکاری ملازمین عوام کیلئے ہولی دیوالی عید وغیرہ کی تعطیلات خوشی خوشی قربان کرتے ہیں یہ نظام کائنات صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ حیوانوں بھی میں جاری ہے چونٹیاں کیڑے مکوڑے مکھیوں کیلئے مکھیاں اور پروانے چھپکلیوں اور شمعوں کیلئے بندر خرگوش چیتے کیلئے ہرن شیر کیلئےچھوٹی مچھلیاں چوہے شکروں بازوں اور بڑی مچھلیوں کیلئے قربان ہوتے ہیں ہو بہو انسان اپنے رب کے حضور اپنے محبوب جانور کی صورت میں اپنے آپ کو قربان کرتاہے ( حق تو یہی تھا کہ خدا کے حضور انسان ہی کی قربانی دی جاتی مگر انسان کے ذمہ اپنے تحت بہتوں کے حقوق لازم ہیں ان حقوق واجبہ میں کوتاہی ہوتی ماتحت افراد بے یار و مددگار پھرتے سارا نظام معاشرت اتھل پتھل ہوجاتا نیز انسان اشرف المخلوقات ہے اسے ذبح کرنے میں اک قسم کی توہین ہے) جو انسان کی رب تعالیٰ سے قربت کا بہترین ذریعہ اور بندے کی جاں نثاری کا اعلی نمونہ ہے بالفرض حلال جانوروں کو ذبح نہ کیا جائےاور مفید حیوانوں کو ختم ہو نے کے ڈر سے یوں ہی چھوڑ دیاجائے تب بھی وہ کبھی نہ کبھی خود بہ خود مرجائیں گے علاوہ ازیں قریب قریب تمام ہی مذاہب میں اپنے اپنے بڑوں کے دربار میں جاندار کی قربانی اور بلی چڑھانے کی صورتیں موجود ہیں رہی بات گوشت خوری کی تو وہ بھی سوائے چند ایک کہ تمام ہی مہذب قوموں میں قدیم زمانے سے پائ جاتی ہے بلکہ بعض محترم مذہبی شخصیات کے متعلق شکار کرنے کی صراحت بعض مذہبی کتابوں میں بھی ہے . پھر مظلوم قوم کی عید قرباں پر ہی وا ویلا کیوں؟ جیو ہتھیا تو مذکورہ صورتوں میں تھی یا ہے جب کہ عید قرباں کی قربانی میں معاشی فلاحی معاشرتی خیرسگالی کے بے شمار فوائد ہیں جن سے آنکھ بند کرنا سراسر نا انصافی اور بے عقلی ہے
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें