یکساں سول کوڈ اور ہمارا رویہ
مسلم پرسنل لا جن شعبہائے زندگی کے قوانین کو شامل ہے وہ نہایت اہم ہیں اور ان کی جڑیں کتاب وسنت میں پیوست ہیں، بلکہ زیادہ تر احکام وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح تشریحات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو قانون ہمیں عطا فرمایا ہے، اس کے مختلف شعبےہیں، ان میں سے ایک شعبہ اس قانون کا ہے جو انسانی سماج اور معاشرہ سے متعلق ہے، جس پر خاندانی نظام کی بنیاد و اساس ہے، جو سماجی تعلقات کے اصول بتاتا ہے، جس میں خاندان کے مختلف افراد کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کو متعین کیا گیا ہے، ان ہی قانون کو عرب علما ”قوانین احوال شخصیہ“ کہتے ہیں۔ اردو میں ”عائلی قوانین“ اور انگریزی میں ”پرسنل لا“ (Family_ law) کہا جاتا ہے۔
”مسلم پرسنل لا“ کوئی عارضی اور وقتی قانون نہیں بلکہ قیامت تک باقی رہنے والے مذہب اسلام کا قانون ہے، لہذا لازمی طور پر اس کی تعلیمات ہر جگہ اور ہر زمانے کے لئے عام ہیں اور ہر وقت اور ہر زمانےکے لئے اس میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مسلم پرسنل لا کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں انسانی مصالح کو قانونی اساس کا درجہ حاصل ہے۔ جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے، اس میں انسانی طبائع اورنفسیات کی پوری رعایت ملحوظ رکھی گئی ہے۔
پرسنل لا قانون کی فراہم کردہ اور دستور ہند کی بنیادی روح کا حصہ ہے۔
لیکن اس وقت مسلم پرسنل لا کو اس ملک میں خطرات درپیش ہیں۔ موجودہ حکومت پے در پے ہر کام دستور کے مغاٸر کر رہی ہے۔ جمہوریت کے چار ستون، عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور صحافت پر ان کا مکمل کنٹرول ہوچکا ہے اور حکومت ان چاروں ذرائع کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے من چاہے انداز میں استعمال کر رہی ہے۔
اسلام دشمن طاقتیں ہر طرف مسلمانوں کے پرسنل لا پر حملہ آور ہیں خواتین کے حقوق کو بہانہ بنا کر اسلام کے عائلی قوانین تک پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اس ملک کا ہر شہری جمہوری دستور کا پابند ہے، جس میں ملک کے ہر شہری کے جان و مال کی تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، اس ملک کا آئین بھی ملک کے ہر باشندہ کو مذہبی آزادی کا حق دیا ہے؛ لیکن آج مسلمانوں کو اس ملک میں تمام تر آئینی و جمہوری حقوق و اختیارات حاصل ہونے کے باوجود مذہبی و تہذیبی عصبیت کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔
آج اس ملک میں مسلمانوں کو ہندوتو کے رنگ میں رنگنے، ہندو مزاج بنانے اور مشرکانہ اعمال سے انہیں مانوس کرنے کی حکمران جماعت کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ہم ہیں کہ خواب خرگوش میں پڑے ہیں اس وقت ہونا تو یہ چاہٸے تھاکہ اس عظیم فتنے کی سرکوبی کے لیے عیسائی تمام اقلیتی مذاہب کے لوگ بام سیف اور اس جیسی ذیلی تنظیموں کو ساتھ لے کر اجتماعی شکل میں میدانِ عمل میں آئیں۔ کیوں کہ حالات کے تناظر میں دیکھیں تو قرائن یہ صاف اشارہ دے رہے ہیں کہ بہت جلد یہ ملک ہندو راشٹر بننے والا ہے۔ پھر ملی شناخت اور ہماری اوقافی جائیدادیں سب قصہ پارینہ بن جائیں گی۔
دستور ہند کے دفعہ 15 کی شق (1) میں ہے کہ ”مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس یا مقامِ پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔
اسی طرح دستور کی دفعات 25 تا 30؍ میں بھارت کے اندر رہنے والی تمام اقلیتوں کو مذہب کی آزادی، منتخب معاملات میں اپنے پرسنل لا پر عمل کی آزادی، اپنی تہذیب، زبان، اپنے ادارے قائم کرنے کی آزادی اور بغیر کسی جبر کے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی آزادی وغیرہ شامل ہے؛ لیکن اس کے باوجود گزشتہ دنوں پیوش گوئل نے اپوزیشن کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں کی زبردست مخالفت کے باوجود غیر سرکاری بل، ہندوستان میں یکساں سول کوڈ 2022 کو راجیہ سبھا میں پیش کردیا۔
اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ کی جج پر تیبھا ایم سنگھ نے طلاق کے معاملے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ملک میں اب مذہب، ذات پات اور طبقہ کی تفریق سے بالاتر ہو چکا ہے، لہذایہی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا سہی وقت ہے۔ جدید بھارت میں مذہب،ذاتوں کی بندشیں تیزی سے ختم ہورہی ہے۔ جس کے سبب بین المذاہب اور بین الطبقات شادیوں اور طلاق میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل کو دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اس لیے ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ناگزیر ہے۔ آئین کی دفعہ 44 میں یکساں سول کوڈ کی جو امید ظاہر کی گئی ہے اسے اب صرف امید نہیں رہنا چاہیے بلکہ حقیقت میں بدل دینا چاہیے۔
اس طرح کی بات کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومٸ نے بھی کہا تھا کہ ان کی سرکار یکسانیت کو یقینی بنانے کے لئے ریاست میں یونیفارم سول کوڈ (یوسی سی) کو نافذ کرنے پر عزم کے ساتھ غور کر رہی ہے۔ اور وقت آنے پر اسے نافذ کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ابھی حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بھوپال میں بی جے پی کے کارکنوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ’یونیفارم سول کوڈ‘ یعنی یکساں سول قانون لانے کی وکالت کی۔
مودی نے سوال کیا کہ ملک دو قوانین پر کیسے چل سکتا ہے۔ وہ مسلم پرسنل لا جیسے قوانین کا حوالہ دے رہے تھے۔ باطل کی یہ جدو جہد دوسری طرف ہمارے قاعدین عمل کہ وہ کہ لیٹرپیڈ پربیان بازی سےآگےبڑھنے کوتیار نہیں۔ اگر یہی ہماراحال رہاتوموجودہ حکومت کو ہندو راشٹر بنانے سے کوٸ نہیں روک سکتا۔
کچھ لوگ اسے آئندہ آنے والے ریاستی اور مرکزی انتخابات میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹ سمیٹنے اور ملک کے اہم اور بنیادی ایشوز سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہوں گے ۔ لیکن موجودہ حالات کے تناظرمیں اس کے سدباب کے لیے ہماری جانب سے زمینی سطح پرکیا کوششیں کی جارہی ہیں ذرا اس بابت بھی غور و فکر کرنے کی زحمت گوارہ کریں۔
کیونکہ موجودہ حکومت اور اس کے زیر اثر کام کرنے والے ادارے یونیفارم سول کوڈ کی حمایت میں میڈیا کے ذریعے ذہن سازی اور پرسنل لاء کے خلاف رائے سازی میں تن من دھن سے جٹے ہوئے ہیں۔
یونیفارم سول کوڈ یعنی ہر معاملے میں پورے بھارت کے لئے ایک قانون ہو۔ کوئی الگ سے مذہبی قوانین نہ ہوں بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک قانون بنا دیا جائے۔جو تمام مذہب کے ماننے والوں پر لاگو ہو جس میں شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس کے لئے دستور کے سیکشن 44 کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
سیکشن44 جو کہ دستور کا ڈائریکٹو پرنسپل ہے جس میں ستائے گئے لوگوں کو انصاف دلانے اور الگ الگ کلچرل گروپس کو ہم آہنگ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ جس کا تعلق قانون بنانے سے نہیں ہے بلکہ بنے ہوئے قوانین کے تحفظ سے ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے دستور کو تیار کرتے وقت کہا تھا کہ یونیفارم سول کوڈ کو زبردستی تھوپا نہیں جانا چاہیے، یہ voluntary ہونا چاہیے۔ اس کو ہٹانے کا راستہ اوپر سے نہ ہو بلکہ وہاں کے لوگوں کی مرضی سےہو۔ ڈاکٹر امبیڈکر نےConstituet Assembly کی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اگر اسٹیٹ کے پاس طاقت ہے تو وہ فوراً یونیفارم سول کوڈ نافذ کر دے۔وہ طاقت اس وقت غلط مانی جائے گی کبھی اگر آپ کے بنائے قانون پر دیش کے مسلمانوں یا کرسچن یا دوسری قومیں اعتراض کریں۔ میرے حساب سے اگر کوئی حکومت ایسا کرتی ہے تو وہ پاگل ہو گی۔“
(یو سی سی)یعنی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد عاٸلی اور شخصی زندگی میں قرآن و سنت کی ہدایات سے دستبردار ہونا پڑے گا،اور ایک ایسے قانون کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں مذہب کی مقرر کی ہوئی حدیں مٹ جائیں گی اور فرد کی شخصی زندگی سے حلال و حرام کا وجود ختم ہو جائے گا۔اور اس کا نفاذ قومی انتشار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بڑی ہی بد بختی کی بات ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ ہمارے ملک میں یومیہ 55 لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آتے ہیں 2016 کے اعدادوشمار کے مطابق اطفال جنسی تشدد کے تقریباً ایک لاکھ کیس عدالت میں زیر التوا ہیں۔ دن بدن ماہ بماہ اور سال بسال مادر رحم میں پلنے والی بچیوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کتنی خواتین دوران ژچگی فوت ہوجاتی ہیں۔کتنے علاقے ایسے ہیں جہاں خواتین کو دور دراز کے علاقوں سے پانی بھر کر لانا پڑتا ہے۔ بچیوں کو اسکول جانے کے لیے کئی کوس پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام کام حکومت کے کرنے کے ہیں اور حکومت ان سب مسائل کو نظرانداز کر کے مذہبی امور میں مداخلت کے درپے ہے۔ تین طلاق کو اس نے ہٹلر گری سے قابل جرم عمل قرار دے دیا ہے، حالاں کہ طلاق کے واقعات مسلمانوں میں اکثریت طبقے سے زیادہ نہیں ہے اور نہ ہی اسی طرح تعدد ازدواجاور حلالہ مسلم معاشرے کا موضوع ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حکومت یونیفارم سول کوڈ یوسی سی لانے کا عزم مصمم کر چکی ہے اور یہ حکومت بہت جلد ایک قوم، ایک تہذیب و ثقافت کا فاشسٹ نظریہ ہر ایک پر تھوپنا چاہتی ہے،حالانکہ یہ ملک ایک کثیر مذہبی،کثیرنسلی اور کثیر تمدنی ملک ہے، جس کا رقبہ اور آبادی ذیلی براعظم کی نوعیت رکھتا ہے۔
حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے اس بات کو محسوس کیا جانا چاہئے کہ اتحاد اور ہم آہنگی کی بنیاد دراصل اپنائیت کا احساس ہے اور یہ احساس اس اعتماد سے پیدا ہوتا ہے کہ اس میرے ملک میں میری کس عزیز شٸ، میرے مذہب، میرے تمدن، میری شناخت اور میری پہچان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ مختلف شناختوں کو تسلیم کرنے سے قومی یکتائی ہم آہنگی اور اتحاد کی قوت ملے گی۔ کسی یونیفارم سول کوڈ کو مسلط کرنے کے نتیجے میں محرومی اور عدم تحفظ کے جذبات ابھریں گے جو ملک کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔ کیوں کہ مذہب اس ملک کے رگ و ریشہ میں پیوست ہے۔ یہ ملک مختلف تہذیبوں، مذہبوں زبانوں اور نسلوں کا گہوارہ ہے۔ یورپی ملکوں کی طرح کوئی چھوٹا ملک نہیں،نہیں یورپی اقوام کی طرح ایک نسل،ایک تہذیب یا ایک زبان کا ملک ہے ، یہ ملک ایک سمندر ہے، جہاں مختلف مذاہب، ذات، نسل اور تہذیب کے لوگ مل جل کر رہتے آۓ ہیں اور ہر مذہبی، تہذیبی اور نسلی گروہ میں اپنی شناخت اور پہچان کو باقی اور برقرار رکھنے کی زبردست خواہش ہوتی ہے،یورپی ممالک نے اس کے لئے کٸ خون آشام جنگیں لڑی ہیں، آج بھی پوری دنیا میں اپنی انفرادی شناخت اور تحفظ کو منوانے کے لئے زبردست تحریکات جاری ہیں۔ لہذا اس پس منظر میں مسلمانوں کو اپنی اسلامی شناخت، تہذیبی خصوصیات، مذہبی روایات اور معاشرتی امتیازات سے وابستگی اور اپنے ملی وجود کی حفاظت کی سخت ضرورت ہے۔
سچا مسلمان کبھی بھی اور کسی بھی فریب میں اپنے ملی وجود وتشخص اور اپنے امتیازات و شعاٸر سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خوراک سے پیٹ اور پوشاک سے جسم کی حفاظت تو ہوسکتی ہے، لیکن ایک حقیقی مسلمان کے پاس اس کے پیٹ اور جسم کے ان تقاضوں اور مادی ضرورتوں کے علاوہ بھی ایک اہم چیز اور ہے، وہ ہے اس کا دین ایمان، ایک سچا مسلمان بھوکا تورہ سکتا ہے لیکن وہ اپنی تہذیبی خصوصیات سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں ہمیں ہر حال میں اپنے دین کو اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ آخری دم تک اپنانا ہوگا، ورنہ ہم تہذیبی اور اعتقادی ارتداد کے تیزوتند ہوا میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے۔ہمارے ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی فضا ہموار کی جارہی ہے اور الگ الگ مذاہب اور تہذیبوں کے اس ملک کو کامن سول کوڈ کے ذریعے مذہبی اور تہذیبی آزادی پر یلغار ہورہی ہے، اسی سلسلے میں لا کمیشن آف انڈیا نے ملک کے شہریوں سے یکساں سول کوڈ کے بارے میں رائے مانگی ہے، ہمیں اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر جواب دینا چاہیے اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرنی چاہیے۔
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें