پسماندہ مسلمان حقیقت یا ڈھونگ


اسلام رنگ و نسل ذات پات کے امتیازات سے پاک ہے  اسی وجہ سے اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید نے اپنے آغاز ہی میں تمام تر بنی نوع انسانی کو صرف اور صرف دو گروپ میں منحصر کردیا 1 فرماں بردار 2 نا فرمان اور اشارہ کردیا کہ انسانوں کو باہم تقسیم کرنے کی کوئی اصولی و کامل مکمل وجہ ہوسکتی ہےتو وہ یہی ہے جو تمام تر افراد پر منطبق ہو سکتی ہے بغیر کسی جغرافیائی حد بندی رنگی امتیاز یا نسلی تفریق کے اس اصول کے علاوہ اسلام میں آپسی تفریق درجہ بندی بہتری ابتری اونچ نیچ کا کوئی معیار اور طریقہ کار نہیں ہے یہاں سب برابر ہیں کسی عربی کو عجمی پر کالے کو گورے پر مالدار کو نادار پر بادشاہ کو رعایا پر اک قبیلے خاندان کو دوسرے خاندان پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی الگ الگ خاندانوں اور جدا گانہ  برادریوں اور علاقوں میں پیدا ہو نا باعث شرافت و کرامت ہے بلکہ انسانوں کا قبیلوں دیہاتوں شہروں والا ہونا صرف اور صرف شناخت کا ذریعہ ہے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ کرامت والاسب سے زیادہ ڈرنے والا(فرماں بردار) ہے یہ صرف زبانی دعویٰ نہیں تمام اسلامی شعبوں میں موجود بھی ہے

حق امامت ہر اس شخص کو حاصل ہےجو منصب  امامت کا اہل ہو نماز کے ارکان و شرائط سے واقف ہو مفسدات نمازسے آگاہ ہو قرآن کریم کو اچھی طرح پڑھتا ہو ظاہر ہے اوصاف مذکورہ کو حاصل کرنا ہر کسی کے بس میں ہے ان اوصاف پر دیگر قوموں کی طرح کسی خاص برادری کی اجارہ داری نہیں

صف بندی. صف اول میں بیٹھنے کا مستحق ہر وہ شخص ہے جو پہلے آجائے بعد آنے والا پیچھے بیٹھنے پر ہی مجبور ہے پھر چاہے وقت کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو بلکہ  اک غریب و نادار مسجد میں اک بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بیٹھنے  میں بادشاہ کوئی عار محسوس نہیں کرتا ہے

اک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محدود و ایاز 

.......... نہ  کوئی  بندہ رہا نہ بندہ  نواز

حق قضاۃ یہ بھی دیگر حقوق کے مانند عام ہے شرط گر کچھ ہے تو اہلیت ہے بلا شبہ ہر وہ شخص قاضی ہوسکتا ہے جو فیصلوں کی باریکیوں قوانین کے تمام پہلوؤں سے خاطر خواہ واقف ہو

ہماری عباتگاہوں میں سارے مسلمانوں کو جانے کا برابر حق حاصل ہے مسجدوں میں کسی کے ساتھ بھی کوئی امتیاز یا فرق نہیں ہوتا تعلیمی ادارے سب کیلئے عام ہیں اور تو اور ایشیا کی سب سے عظیم یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند کے موجودہ وائس چانسلر مخدوم و مکرم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب اسی برادری سے آتے ہیں جسے ہمارے صاحب "پسماندہ" کہتے ہیں اور یہ کسی ریزرویشن کی بنیاد پر نہیں بلکہ حضرت کے علمی عملی کمالات آپکی نصف صدی پر محیط جانفشانی کا ثمرہ ہے

رہی معاشی کمزوری ناداری اور غربت تو اس کیلئے مذہب سے زیادہ سربراہان ذمہ دار ہیں تا ہم ہمارے غرباء کی کفالت کیلئے نظام زکوٰۃ صدقہ فطرہ جیسے فنڈ موجود ہیں جومجبوروں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ہمدردی غمخواری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی پر بس نہیں بلکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمارا مال صرف تمہارا نہیں اس میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق ہے تمہیں در اصل جو کچھ مال دولت ملتا ہے وہ محتاجوں بے سہاروں کے طفیل ہی ملتا ہے کمزور افراد ہر خوشی غم میں مالدار لوگوں کا اٹوٹ حصہ ہیں وہی ولیمہ باعث برکت ہے جس میں غریب لوگ بھی شامل ہوں صرف مالدار رشتہ داروں کو دعوت ولیمہ وغیرہ میں شریک کرنا بد ترین دعوت اور سب سے برا کھاناہو نے کیلئے کافی ہے ہمارے سیدھے سادے بھولے بھالے لوگوں کو "پسماندہ" کہہ کر بےوقوف بنانے والے ذرا اپنے گھر کی بھی خبر لے لیا کریں کیا ان کے یہاں شودر کو سربراہی مندر میں پوجاری بننے بلکہ مندروں میں گھسنے کے حقوق بھی حاصل ہیں؟ برہمنوں کے مانند گھوڑی چڑھنے ٹھاکروں کی طرح مونچھ رکھنے اوربرابر بیٹھنے کا حق رکھتے ہیں؟؟؟؟ 

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...