عورتوں کے حقوق اور اسلام کا نرالہ انصاف


اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ سمجھنا ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور ظہور کے وقت دنیاکی مہذب و متمدن قوموں کے عورتوں کے ساتھ رویوں اور برتاؤ کو دیکھو! کسی کے یہاں عورت شر ہی شر تھی کسی کے نزدیک عورت  متاع مشترک تھی کسی کے یہاں بس قابل استعمال چیز تھی دیگر سامانوں کی طرح عورت بھی فروخت کی جاتی تو کہیں رقص و سرود کی محفلوں کو چار چاند لگانیوالی  شہوت کے بھوکے بھیڑیوں کو شکم سیر کرنیوالی غرضیکہ ہر طرح کی ذلت کا معیار اور نشان اہانت تھی اور عزت و مرتبہ کا عورت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا اس کے مقابلہ میں اسلامی تعلیمات  ملاحظہ کریں جوں ہی ننھی گڑیا پیدا ہوتی ہے اس کی پیدائش کو رحمت و برکت قرار دیا گیا اور شادی ہونے تک اس کی تربیت باپ کے ذمہ لازم کردی نہ صرف لازم بلکہ بچی کی تربیت پر بہترین وعدہ ثواب و مغفرت کئے گئے مثلاً
 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" جس شخص کے دو بچیاں ہوں اور اس نے ان کی اچھی تربیت و پرورش کی وہ قیامت کےدن اس حال میں آئے گا کہ وہ اورمیں اس طرح ہو نگے" اور اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اپنے اور بچیوں کی پرورش کرنے والے کی قربت کی جانب اشارہ فرمایا اس فضیلت میں دو سے زیادہ 
اور دو سے کم لڑکیوں کی پرورش کرنے والے بھی داخل ہیں نیز پرورش میں جسمانی تربیت کے ساتھ روحانی تربیت اور اخلاقی تربیت بھی شامل ہے 

 شادی ہونے کے بعد مرد کے ایمان کو مکمل کرنے والی ہے چنانچہ فرمایا "جس نے نکاح کیا اس نے نصف دین کو مکمل کردیا اسے چاہیے کہ باقی آدھے میں اللہ سے ڈرے"گر نیک ہوتو دنیا کی سب سے بہترین نعمت شوہر کیلئے باعث سکون اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی مودت و محبت کی بے مثال علامت ہے ایک اجنبی کی تحویل میں اسے یوں ہی نہیں دےدیا بلکہ شوہر کے مانند بیوی کو بھی حقوق دیئے گئے شوہر کو بیوی کے ناز و نخرے اٹھانے والا اس کیلئے کھانے کپڑے اورضروریات زندگی کا انتظام کرنے والا بنا یا نیز مرد کو عورت کے ساتھ حسن معاشرت نرمی مہربانی اور در گزر سے کام لینے کا مکلف بنایا گیا ناچاقی ناپسندیدگی کی صورت میں بھی مرد کو دامن صبر تھامے رکھنے کا حکم دیا گیا فرمایا گیا "ہوسکتا ہے اسکی اک چیز تمہیں نا پسند ہو مگر دوسری بات تمہیں پسند ہو" ماں بننے پر ہونے والی تکالیف کو سیئات کی معافی اور بلند درجات کا ذریعہ بنایا بچوں کی تربیت پر پیش آنے والے مصائب کے بدلے اولاد پر خدمت لازم کردی گئی اور خدمت کو اولاد کیلئے حصول جنت کا راستہ قرار دیا گیا اور باپ کے مقابلہ ماں کو درجات خدمت میں تین گناہ فضیلت عطا کی گئی شوہر کے مال کا سہیم وشریک قرار دیا گیا نیز باپ کی میراث کابھی حقدار بتلایا گیا 

غرضیکہ اسلام نے عورت کو ذلت رسوائی کے عمیق غار سے نکال عزت و مرتبت کے بام عروج پر پہنچایا  تمام تر  معاشی تگ ودو اور معیشت کے غیر معمولی جھمیلوں سے دور رکھا. اب اسلام کے نرالے انصاف کی داد دو کہ اس نے کیوں کر لڑکے کو دوہرا اور لڑکی کو اکہرا میراث کا حقدار بنایا تصور کرو اگر اس صنف نازک کو بھی میراث میں مرد کے برابر حصہ ملتا تو مرد جو کبھی باپ بن کر کبھی شوہر بن کر کبھی اولاد بن کر اس مخلوق خدا کی خدمت اور اخراجات پورے کرنے کیلئے ہزار جتن کرتا ہے اس بے چارے کے ساتھ انصاف ممکن تھا؟؟؟؟؟  

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

समान नागरिक संहिता हिन्दू राष्ट्र की ओर एक कदम

برزخی زندگی اور حقیقت

जन्नत की हकीकत...