آسمان تلے یہ فخر صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس نے پاک معاشرہ کی تشکیل اور بقا کیلئے جو اصول و قوانین مقرر کئے وہ نایاب و نادر ہیں
اس نے صرف جرائم کی قباحت بیان کرنے اور وقوع جرم پر سخت ترین تعزیرات یا حدود ہی کا تعین نہیں کیا بلکہ جرائم تک لےجانے والے راستوں کو مسدود کیا گناہوں کی جانب میلان رکھنے والی طبیعتوں اور خواہشات کے دلدادوں کو ممنوعات سے احتراز و نفرت کرنا سکھایا
زناکے ساتھ بھی یہی تدبیرو طریقہ اختیار کیا گیا دیکھئے" ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا" زنا کے قریب بھی مت جاؤ بے وہ بے حیائی اور برا راستہ ہے. نفس زنا سے ہی منع نہیں کیا بلکہ قریب بھٹکنے سےبھی منع کردیا
زنا کی مذمت احادیث میں
جب بندہ زنا کرتا ہے تو اُس سے ایمان نکل کر سر پر سائبان کی طرح ہوجاتا ہے اور جب اس فعل سے جدا ہوتا ہے تو اُس کی طرف ایمان لوٹ آتا ہے۔
*(ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء لا یزنی الزانی وہو مؤمن، ۴ / ۲۸۳، الحدیث: ۲۶۳۴)*
حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا جس قوم میں زنا ظاہر ہوگا وہ قحط میں گرفتار ہوگی اور جس قوم میں رشوت کا ظہور ہوگا وہ رعب میں گرفتار ہوگی۔
*(مشکوۃ المصابیح، کتاب الحدود، الفصل الثالث، ۲ / ۶۵۶، الحدیث: ۳۵۸۲)*
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشاد فرمایا:
’’جس بستی میں زنا اور سود ظاہر ہوجائے تو انہوں نے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کر لیا۔
*(مستدرک، کتاب البیوع، اذا ظہر الزنا والربا فی قریۃ فقد احلّوا بانفسہم عذاب اللّٰہ، ۲ / ۳۳۹، الحدیث: ۲۳۰۸)*
حضرت عثمان بن ابو العاص رَضِی اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’ آدھی رات کے وقت آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ،پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے،ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت دور کی جائے۔ اس وقت پیسے لے کر زنا کروانے والی عورت اور ظالمانہ ٹیکس لینے والے شخص کے علاوہ ہر دعا کرنے والے مسلمان کی دعا قبول کر لی جائے گی۔
*(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ ابراہیم، ۲ / ۱۳۳، الحدیث: ۲۷۶۹)*
حضرت عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو شخص اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر ِرحمت نہ فرمائے گا اور نہ ہی اسے پاک کرے گا اور اس سے فرمائے گا کہ جہنمیوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہو جاؤ۔ *(مسند الفردوس، باب الزای، ۲ / ۳۰۱، الحدیث: ۳۳۷۱)*
اسی قباحت ومذمت پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس گھناؤنے عمل تک پہنچانے والے اسباب عوامل پر مکمل پابندی عائد کردی گئی
مرد وعورت ہر ایک کو حکم دیا گیا"اپنی اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو" عورت کو غیر مردوں میں زیب زینت اختیار کرنے سے منع کردیا بلکہ لوچ دار کفتگو سے روکا گیا تنہائی میں غیر محارم کی یکجائی کو مذموم قرار دیا عورتوں کو پردے کے اہتمام پر ابھارا گیا جسم کے نشیب و فراز کی مکمل پردا داری کوپسند کیا گیا
ان سب کے بعد بھی اگر یہ فعل قبیح گر سرزد ہوجائے تو انتہائی عبرتناک دنیاوی سزاؤں کا تعین ہے
غیر شادی شدہ جوڑے زنا کر بیٹھیں تو ان میں سے ہر ایک کو
سوکوڑے مارو
گر شادی شدہ جوڑے زنا کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو پتھرمار مارکر ہلاک کردو تاکہ یہ سزا دیکھنے والوں کیلئے سامان عبرت بنے جرائم پیشہ افراد اس خوفناک حد کے تصور سے کانپ اٹھیں اور اس بد ترین تباہ کن فعل سے باز رہیں
شہوت کو پورا کرنے کا جائز راستہ
بلاشبہ مرد کو عورت کی اور عورت کو مردکی فطری ضرورت ہے دونوں میں سے ہر ایک کا درسرے کی جانب میلان بھی تقاضہ عقل کے عین مطابق ہے اسی فطری تقاضے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے
کیلئے اللہ تعالیٰ نے نکاح اور مقا صد نکاح کو حلال کیا
(نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں (قرآن
اے نو جوانوں جو تم میں سے نکاح کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ نکاح کرے کیونکہ وہ نگاہ کو جھکا نے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے.(حدیث)
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें